.

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اخوان کے مزید 1004 کارکن گرفتار

صرف قاہرہ سے 558 گرفتار، سڑکوں پر بکتر بند گاڑیوں کا گشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں پہلے منتخب مگر معزول کر دیے گئے صدر مرسی کے حامیوں اور فوجی اقتدار کے خلاف احتجاج کناں اخوان المسلمون کے خلاف سکیورٹی فورسز کا آپریشن ہفتے کے روز بھی جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ہفتے کی صبح کم از کم 1004 اخوانی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

تازہ گرفتاریاں اخوان المسمون کے یوم غضب کے بعد مصر کے طول و عرض سے کی گئی ہیں۔ ہفتے کےروز سامنے لائی گئی گرفتار کیے گئے شہریوں میں سے 558 صرف قاہرہ سے اٹھائے گئے ہیں ۔ جہاں ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعہ کے روز 80 سے زائد مظاہرین مارے گئے تھے۔

مزید مظاہروں کے سدباب اور لوگوں کو سڑکوں پر آنے سے روکنے کے لیے فوج کی بکتر بند گاڑیاں دارالحکومت کے چوراہوں اور شاہراہوں پرگشت میں مصروف ہیں ۔ مصر کی عبوری حکومت کا موقف ہے کہ وہ اخوان المسلمون کی جانب سے تیار کردہ دہشت گردی کی بد ترین سازش سے نبرد آزما ہے۔ اس سلسلے میں '' کابینہ، مسلح افواج، پولیس اور مصر کے بہادر عوام متحد ہیں۔''

واضح رہے منتخب صدر مرسی کی جولائی میں برطرفی کے بعد بدھ کے روز دھرنے ختم کرنے کے لیے جس سطح کی ہلاکتیں ہوئی ہیں مصری تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔