.

سکیورٹی فورسز نے قاہرہ میں مسجد کو گھیرے میں لے لیا

مظاہرین الفتح مسجد میں جمعہ کو اپنے ساتھیوں کی لاشیں اور زخمی لائے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سکیورٹی فورسز نے اخوان کے حامیوں کو قاہرہ کے علاقے رامیسس چوک کی مسجد الفتح سے نکالنے کے لیے صبح سویرے سے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ معزول صدر کی بحالی اور فوج کی بیرکوں میں واپسی کے حق میں سرگرم مظاہرین جمعہ کے روز کےتصادم اور مظاہروں کے بعد اس مسجد میں جمع ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے صبح ہی رامیسس چوک کے قریب اس مسجد کو محاصرے میں لے لیا تھا۔ تاہم کہا گیا ہے سکیورٹی اہلکار مسجد میں مذاکرات کرنے گئے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق مسجد میں موجود خواتین مظاہرین کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ مردوں سے پوچھ گچھ جاری ہے ۔

مظاہرین میں سے ایک نے میڈیا کو بتایا کہ مسجد میں لگ بھگ ایک ہزار لوگ موجود ہیں، جن کے ساتھ 20 جان بحق افراد کی لاشیں بھی ہیں۔ مسجد میں موجود ایک خاتون کا کہنا تھا '' بعض لوگوں نے دھوکہ بازی سے مسجد میں گھسنے کی کوشش کی تاہم مرد حضرات نے دروازے بند کر کے ان ک یہ کوشش ناکام بنا دی''

دوسری جانب مصر کے سرکاری ذرائع کا موقف ہے کہ مسجد میں مسلح لوگ موجود ہیں اور انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی ہے، واضح رہے رامیسس چوک جمعہ کے روز مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کا اہم مرکز رہا۔ جہاں سے سے زخمی مظاہرین اور جاں بحق ہونے والے مظاہرین کی لاشیں ان کے ساتھی الفتح مسجد لاتے رہے تھے۔