.

مصر: البرادعی، غیر ملکی نمائندوں اور اخوان میں سمجھوتے کا انکشاف

سیسی نے البرادعی کی بات ماننے سے انکار کر کے مصالحت ناکام بنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمون اورعبوری حکومت کے بعض ذمہ دار غیر ملکی سفیروں کی کوششوں کے باعث سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی معاملات کو'' اپنے انداز سے آگے بڑھانے'' پر بضد تھے ۔ اس امر کا اظہار واشنگٹن پوسٹ کی مصری بحران پر شائع کی گئی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

اس مجوزہ سمجھوتے میں الاخوان کو اپنے احتجاجی کیمپ ہٹانے اور عبوری حکومت کے بعض سویلین ذمہ دار افراد کو مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے پر اصولی طور پر راضی کر لیا گیا تھا۔ نیز اس امر پر بھی اتفاق ہو گیا تھا کہ صدر مرسی کی برطرفی کے بعد ہونے والے تشدد کے واقعات کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ اس اتفاق کے بعد الاخوان اور عبوری حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات بھی متوقع تھے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بظاہر یہ لگتا ہے کہ خارجہ امور کے لیے عبوری نائب صدر اور مصالحت کے لیے کوشاں غیر ملکی سفیروں کے ساتھ رابطے میں رہنے والے محمد البرادعی آرمی چیف کو غیر ملکی سفیروں کے ساتھ طے پانے والے امور پر قائل نہیں کر سکے، جس کی وجہ سے غیر ملکی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں اور معاملہ بدترین خونریزی پر منتج ہوا۔ بعد ازاں البرادعی نے عبوری حکومت سےا حتجاجاً علیحدگی اختیار کر لی۔

واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مجوزہ سمجھوتہ غیرملکی سفیروں جن میں امریکی نمائندوں، یورپی یونین کے نمائندوں، اور سفیروں کے علاوہ قطر اور بعض دیگر عرب ملکوں کی کوششوں کا حاصل تھا، جو انہوں نے اپنے کئی ہفتوں کے دوروں کے باعث ممکن بنایا تھا۔ اس رپورٹ میں امریکی نائب وزیر خارجہ ولیم برنس، یورپی یونین کے نمائندہ برائے مصر اور قطر کے وزیر خارجہ کی کوششوں کا بطور خاص ذکر ہے۔

یورپی یونین کے نمائندے مسٹر لیون نے اخبار کو بتایا ''ہم چار نمائندے اس ڈیل کی حمایت کر رہے تھے کہ یہ ایک سیدھا طریقہ تھا۔''

رپورٹ میں سعودی عرب، کویت، اور خلیجی ممالک کی طرف سے مصر کے عبوری ''سیٹ اپ'' کو دی جانے والی امداد کا ذکر بھی بطور خاص کیا گیا ہے۔ اسی طرح قطر کے اخوان کے ایک حامی کے طور پر ابھرنے کا بھی حوالہ ہے۔