.

اسکندریہ میں مرسی کی''جسٹس اینڈ فریڈم پارٹی''کا دفتر نذر آتش

250 حامیوں کے خلاف قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کے مقدمات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اخوان المسلمون کے گرفتار کیے گئے حامیوں میں سے دوسو پچاس کے خلاف قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمات بنا کر ان سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے'' مینا'' کے مطابق جمعہ کے روز پولیس اور سکیورٹی اداروں نے اخوان کے اڑھائی سو سے زائد حامیوں کو مختلف جگہوں سے گرفتار کیا تھا۔

ان گرفتار کیے گئے افراد میں میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے بھائی محمد الظواہری بھی شامل ہیں، جن پر مرسی کے حامیوں کی مدد کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ان الزامات کی تفتیش مکمل کرنے اور عدالتوں میں مقدمات چلانے کے لیے کیا ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔

مصر میں ان دنوں زیر عتاب اخوان المسمون اور اس کے حامیوں کے لیے یہ ایک اور دھچکہ ہے، اس سے پہلے عبوری وزیر اعظم حاذم الببلاوی الاخوان پر پابندی عائد کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں تاہم اس بارے میں ابھی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق صدارتی محل میں اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں کیا گیا ہے ۔

ہفتے ہی کے روز معزول صدر مرسی کی جماعت ''جسٹس اینڈ فریڈم پارٹی '' کے اسکندریہ میں مرکزی دفاتر کو نذر آتش کر دیا ہے۔ اس سے پہلے اخوان المسلمون کے مرکزی دفتر پر بھی حملہ کیا جا چکا ہے