.

سکیورٹی فورسز نے قاہرہ کی 'الفتح مسجد' خالی کروا لی

گھنٹوں محاصرے کے بعد سیکیورٹی اہلکار مسجد میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت قاہرہ کی الفتح مسجد کو مرُسی نواز مظاہرین سے خالی کروا لیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق مسجد میں موجود مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ مصر کے معزول صدر محمد مُرسی کے حامی الفتح مسجد میں جمع تھے۔ سکیورٹی فورسز نے گھنٹوں مسجد کا محاصرہ کیے رکھا۔

قبل ازیں مظاہرین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ان کی تعداد تقریباﹰ ایک ہزار تھی۔ اسی مسجد میں جمعہ کو جاں بحق ہونے والے 20 افراد کی لاشیں بھی رکھی گئی تھیں۔ ٹیلی وژن فوٹیج کے مطابق فوجیوں کو مسجد میں موجود لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔

مسجد میں موجود ایک شخص نے ٹیلی فون پر ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ باہر آنے پر انہیں گرفتار نہ کیا جائے یا مسجد کے باہر موجود شہری ان پر حملہ نہ کریں۔

مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے 'مینا' نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’مسلح عناصر‘ مسجد کے اندر سے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کر رہے ہیں۔

معزول صدر مُرسی کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے اپیل کی ہے کہ مزید ’قتلِ عام‘ سے بچا جائے جبکہ مُرسی نواز مظاہرین احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

قاہرہ میں مُرسی نواز مظاہرین کے خلاف بدھ کے کریک ڈاؤن میں کم از کم 578 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد مختلف شہروں میں جھڑپوں کے نتیجے میں مزید 173 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اخوان المسلمون کے ایک ہزار سے زائد حامیوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے 1,004 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے 558 گرفتاریاں قاہرہ میں ہوئیں۔

مصر کی کابینہ نے بھی ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں ’دہشت گردی کے ایک منصوبے‘ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’’کابینہ اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ حکومت، مسلح افواج، پولیس اور مصر کے عظیم عوام اخوان المسلمون کے دہشت گردی کے ناپاک منصوبے کے خلاف متحد ہیں۔‘‘

وزارتِ داخلہ نے بھی اخوان المسلمون پر تھانوں پر حملوں کا الزام لگایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد کی جانب سے بعض سرکاری عمارتوں پر ہلہ بولنے کی کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں۔