.

مصر: دہشت گردی اور قتل عام کے الزام میں اخوان کے 250 کارکنوں سے تفتیش

کارکنوں پر ازبکیہ پولیس ہیڈ کواٹر پر یلغار کا بھی الزام ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پراسیکیوشن نے اخوان المسلمون کے زیرحراست سیکڑوں کارکنوں سے ملک میں شورش پھیلانے، مخالفین کے قتل عام اور دیگر الزامات سے متعلق تفتیش شروع کردی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے "مینا" کے مطابق ازبکیہ پراسیکیوشن کے حکم پر تفتیش کاروں نے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں اور ان کی جماعت اخوان المسلمون سے وابستہ 250 افراد سے تحقیقات کا آغاز کیا۔ ان پر اُزبکیہ پولیس اسٹیشن پرحملے، مخالفین کے قتل عام اور ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکام زیرحراست اخوانی کارکنوں سے جمعہ کی شام رمسیس گراؤنڈ میں پرتشدد کارروائیوں بالخصوص پولیس کے ہیڈ کواٹر پرفائرنگ کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

پراسیکیوشن حکام کی جانب سے اخوانی کارکنوں پر ایک الزام یہ بھی عائد کیا ہے کہ وہ بدامنی پھیلانے والے ایک ایسے گروپ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مرتکب ہوئے ہیں. نیز یہی کارکن سیکیورٹی حکام کے خلاف مسلح مزاحمت بھی کرتے رہے ہیں۔ ملزمان نے مبینہ طور پر احتجاجی مظاہروں کے دوران اسلحے کا کھلے عام استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت دسیوں عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔ محروسین کو تفتیش کاروں کو یہ بتانا ہو گا کہ انہوں نے کس کے ایماء پر اپنے پاس غیر قانونی طور پر دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ رکھا، سڑکیں بلاک کیں، مواصلات نظام درہم برہم کیا اور پبلک املاک پر پٹرول بم حملے کرکے انہیں نذرآتش کیا ہے۔