.

مصر ہر کسی کا ہے، فوج اقتدار پر قبضے کی خواہاں نہیں: جنرل السیسی

تشدد کا سہارا لینے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ اور وزیردفاع جنرل عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ ''فوج اقتدار پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی بلکہ اس کے بجائے وہ عوام کی منشا کا احترام اور تحفظ کرے گی کیونکہ وہ مصر پر حکمرانی سے زیادہ اہم ہے''۔ انھوں نے کہا کہ ''ملک برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں سمیت سب کا ہے''۔

گذشتہ بدھ کو دارالحکومت قاہرہ میں ڈاکٹر مرسی کے حامیوں کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے بعد جنرل السیسی نے اتوار کو فوجی اور پولیس افسروں سے یہ پہلا خطاب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''مصرمیں ہر کسی کے لیے جگہ ہے''۔ ساتھ ہی خبردار کیا کہ ''جو کوئی بھی تشدد کا سہارا لے گا، اس سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی''۔

مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل سے نشر کردہ اور مسلح افواج کے فیس بُک پر سرکاری صفحے پر پوسٹ کیے گئے بیان کے مطابق جنرل السیسی نے کہا کہ ''ہم ملک کی تخریب اور لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے عمل کے دوران خاموش تماشائی نہیں بنے رہیں گے''۔

جنرل السیسی کا کہنا تھا کہ ''ہم نے بحران کو پُرامن طور پر حل کرنے کے لیے بہت سے مواقع دیے تھے اور سابق حکومت کے پیروکاروں سے کہا تھا کہ وہ مصری ریاست کی تخریب اور محاذآرائی کے بجائے جمہوریت کی پٹڑی کی تعمیرنو اور سیاسی عمل میں شامل ہوں''۔

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ اور عبوری حکومت کے عہدے دار ملک میں جاری صورت حال اور سکیورٹی فورسز کی خونریز کا رروائی کا نشانہ بننے والی جماعت اخوان المسلمون کے حوالے سے مختلف بیانات جاری کررہے ہیں۔ عبوری وزیراعظم حازم الببلاوی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اخوان المسلمون پر پابندی لگانے پر غور کیا جارہا ہے کیونکہ ان کے بہ قول اس جماعت نے تشدد کا ارتکاب کیا ہے۔

مصری وزیرخارجہ نبیل فہمی کا کہنا ہے کہ عبوری حکومت جمہوریت کے قیام کے لیے پیش رفت سے دستبردار نہیں ہوئی ہے۔ جرمن میگزین ڈیر سپیگل کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ''مصر کی فوجی قیادت ملک میں نافذ ہنگامی حالت کو ایک ماہ سے زیادہ طول نہیں دے گی اور نہ مصری اس صورت حال کو تادیر قبول کریں گے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''امن وامان کی صورت حال بحال ہونے کے بعد اخوان المسلمون کے حامیوں کو بھی مصر کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مذاکرات میں خوش آمدید کہا جائے گا''۔ تاہم ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے قانون کو نہیں توڑا وہ سیاسی عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کے عبوری حکمران اور حزب اختلاف قانون کی پاسداری اور قانون کو توڑنے کی اپنے اپنے انداز میں تعبیرو تشریح کر رہے ہیں۔ وہ منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کو درست اقدام قرار دیتے ہیں لیکن اس کے خلاف احتجاج کرنے والے کو قانون شکن قرار دے رہے ہیں۔ مصر کی سکیورٹی فورسز نے قاہرہ میں سابق صدر کے حامیوں کے دواحتجاجی دھرنوں کے شرکاء کے خلاف فوجی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے اور اس میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں لیکن عبوری وزیراعظم اور ان کی کابینہ میں شامل بعض وزراء اس کو بالکل جائز اور درست قرار دے رہے ہیں۔