.

یورپی یونین آیندہ چند روز میں مصر کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لے گی

مصری فوج اور عبوری حکومت تشدد سے گریز کریں اور جمہوری عمل بحال کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین آیندہ چند روز میں مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے گی۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ تشدد کے مزید استعمال سے مصر کے لیے ناقابل پیشین گوئی مضمرات ہوسکتے ہیں۔

یہ بات تنظیم کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔ یورپی کونسل کے صدر ہرمن وان رومپائے اور یورپی کمیشن کے صدر ہاؤزے مینول براسو نے اس مشترکہ بیان میں مصرکی مسلح افواج اور عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں، مذاکرات کا عمل بحال کریں اور جمہوری عمل کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

انھوں نے کہا کہ ''یورپی یونین اپنی رکن ریاستوں کے ساتھ مل کر آیندہ چند روز میں مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گی اور وضع کردہ مقاصد کے حصول کے لیے اقدامات کرے گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''مصری آبادی کے لیے جمہوریت اور بنیادی آزادیوں کے مطالبے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یورپی یونین اپنے بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مصر میں تشدد کے خاتمے، سیاسی مذاکرات اور جمہوری عمل کی بحالی کے لیے کوششیں کرے گی''۔

یورپی یونین کی قیادت نے کہا کہ مصر میں اس ہفتے برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف تشدد کے استعمال اور ہلاکتوں کا کوئی بھی جواز نہیں پیش کیا جاسکتا۔ تشدد کا فوری طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔ وان رومپائے اور براسو نے مصر میں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

مصری حکومت نے ہفتے کو گذشتہ چار روز کے دوران تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں کے نئے اعداد وشمار جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ ملک بھر میں کل سات سو اکاون افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے دارالحکومت قاہرہ اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ڈاکٹر مرسی کے حامیوں کے خلاف خونین کریک ڈاؤن میں مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔