.

حزب اللہ لبنان کو شامی جنگ میں جھونک رہی ہے: سعد حریری

بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شیعہ ملیشیا کیا کرے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی حالیہ تقریر کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ لبنان کو شامی جنگ میں جھونک رہے ہیں۔

لبنانی روزنامے ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق سعد حریری نے کہا کہ ''میں نے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کی تقریر سنی ہے۔ ابتدا میں تو یہ متوازن تھی لیکن اختتام تک پہنچتے یہ خطرناک ہوگئی''۔

انھوں نے سوال کیا کہ ''ایک ذمے دار شخص اپنی ہی بات کی تردید کیونکر کرسکتا ہے۔ انھوں نے (حسن نصراللہ) پہلے ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی بات کی لیکن پھر ذاتی طور پر شام جانے کا بھی اعلان کردیا''۔

لبنان کی مستقبل تحریک کے سربراہ سعد حریری نے کہا کہ ''یہ اچھی بات ہے، حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پرجوش ہیں لیکن ہم ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انھوں نے نہرالبارد میں سرخ لکیر کیوں کھینچ دی تھی۔ کیا اس وقت فوج کے ساتھ لڑائی میں تکفیریوں کے ہتھیار استعمال نہیں ہوئے تھے؟''

وہ 2007 ء میں لبنان کے شمال میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ نہرالبارد میں اسلامی جنگجو گروپ فتح الاسلام اور لبنانی فوج کے درمیان جھڑپوں کا حوالہ دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ شکلیں تبدیل کرنے کے باوجود دہشت گردی تو ایک ہی ہے لیکن حزب اللہ اس کی اپنے مفادات کے مطابق تعبیر وتشریح کرتی ہے۔

سعد حریری نے ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی تحریر میں کہا کہ ''حزب اللہ کی منطق سے عراق پر چڑھائی کے وقت امریکیوں کی منطق کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ انھوں نے عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو جواز بنا پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ اب شام میں بھی ایسا ہی ہوگا۔تکفیری شام کی ایک حقیر اقلیت ثابت ہوں گے اور ان کے لیے بشارالاسد کے زوال کے بعد کوئی جگہ نہیں ہوگی لیکن جب بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوگا تو پھر حزب اللہ کیا کرے گی؟''

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ ''منطقی طور پر تو حزب اللہ کا شام سے انخلاء ہوجائے گا لیکن پھر وہ لبنان میں کیا کرے گی۔ امریکی عراق سے انخلاء کے بعد تو امریکا چلے گئے تھے جہاں عراق ان کا ہمسایہ ملک نہیں ہے لیکن حزب اللہ کے سربراہ نئے شام کے ساتھ کشیدہ ہمسائیگی کی بنیادیں رکھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ حسن نصراللہ نے بیروت میں حزب اللہ کے کمپلیکس کے نزدیک تباہ کن کار بم دھماکے کے ایک روز بعد جمعہ کو تقریر میں سخت گیر اسلام پسندوں پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ شام میں جاری جنگ میں بہ نفس نفیس حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔

شامی باغیوں کے ایک غیر معروف گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے جواب میں شیخ حسن نصراللہ نے کہا کہ ''شام میں اگر تکفیریوں (راسخ العقیدہ سنی مسلمانوں) کے خلاف لڑائی ضروری ہوئی تو میں اس میں حصہ لینے کے لیے خود وہاں جاؤں گا''۔ انھوں نے کہا کہ ''بم حملے سے متعلق تمام اشارے تکفیری گروپوں کی جانب جاتے ہیں''۔ بیروت میں حزب اللہ کے کمپلیکس کے نزدیک جمعرات کو زوردار دھماکے میں بائیس افراد ہلاک اور تین سو پچیس زخمی ہوگئے تھے۔