اقوام متحدہ کے کیمیائی اسلحہ معائنہ کاروں کی شام آمد

باغیوں نے خان العسل کے علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا: دمشق کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی چھان بین کے لیے اقوام متحدہ کے انسپکٹرز شامی دارالحکومت دمشق پہنچ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی چھان بین کے حوالے سے یہ مشکل مشن قریب دو ہفتے پر محیط ہوگا۔

شام میں 29 ماہ سے جاری خانہ جنگی کے دوران روں برس کے آغاز میں شامی حکومت اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسر پیکار باغیوں کی طرف سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے تھے کہ انہوں نے اس تنازعے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ان الزامات کی تفتیش کے لیے یہ مشن کئی بار تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ اس کی بڑی وجہ اس تفتیش کے دائرہ کار کے حوالے سے شامی حکومت کے ساتھ عدم اتفاق تھا۔ تاہم بشارالاسد حکومت کی طرف سے جمعرات 15 اگست کو اعلان کیا گیا تھا کہ اس کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے۔

سویڈن سے تعلق رکھنے والے اسلحہ ماہرآکے شیلٹوریم کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے انسپکٹرز کی یہ ٹیم متوقع طور پر حلب کے قریب خان العسل کے علاقے سے تفتیش کا آغاز کرے گی۔ شامی حکومت کا الزام ہے کہ باغیوں نے اس علاقے میں رواں برس 19 مارچ کو کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 16 شامی فوجیوں سمیت 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شامی حکومت کی طرف سے مارچ میں ہی اقوام متحدہ سے تفتیش کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم اس کا کہنا تھا کہ تفتیش کا دائرہ صرف خان العسل تک ہی محدود رکھا جائے۔ تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا شامی حکومت سے مطالبہ تھا کہ ان تمام علاقوں میں تفتیش کے لیے رسائی فراہم کی جائے جہاں جہاں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات لگائے گئے۔

خان العسل کا یہ علاقہ اس کے بعد سے باغیوں کے قبضے میں ہے، جس پر یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہین کہ اقوام متحدہ کی ٹیم مذکورہ مقام تک کیسے رسائی حاصل کرے گی۔ تاہم شامی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ تحقیق کاروں کو اس کے زیر قبضہ ایسے علاقوں کی مکمل رسائی فراہم کی جائے گی جہاں جہاں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں