برطرف صدر مرسی پر مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا الزام

تشدد آمیز کارروائیوں میں حصہ لینے پر الگ کیس میں 15 دن کے ریمانڈ کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کے برطرف صدر محمد مرسی پر مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا نے اطلاع دی ہے کہ پبلک پراسیکیوٹر نے برطرف صدر کو تشدد آمیز کارروائیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں مزید پندرہ روز تک زیر حراست رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس دوران ان سے مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تفتیش کی جائے گی۔ اس نئے کیس کا تعلق دسمبر2012ء میں قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین کی ہلاکتوں سے ہے۔

گذشتہ جمعرات کو مصر کے عدالتی حکام نے ایک اور کیس میں ڈاکٹر مرسی کی حراستی مدت میں تیس دن کی توسیع کردی تھی۔ مصری حکام نے منتخب صدر کو 3 جولائی کو معزول کرنے کے بعد سے کسی نامعلوم مقام پر نظربند کررکھا ہے۔ ان کے خلاف قتل اور جاسوسی میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں