ترکی کا او آئی سی پر مصر میں تشدد کے واقعات پر لاتعلقی کا الزام

تنظیم کے سیکرٹَری جنرل خونریزی پر مستعفی ہوجاتے تو اس کا اثر ہوتا: نائب وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کی حکومت نے اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) اور اس کے سیکرٹری جنرل پر مصر میں خونریزی پر لاتعلق رہنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ترکی کے نائب وزیراعظم بکیر بزداج نے ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ''میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں مستعفی ہوجاتا کیونکہ میں ایک اسلامی تنظیم کے اس موقف کو تسلیم نہیں کرسکتا جو اس نے اس طرح کی سفاکیت کے حوالے سے اختیار کیا ہے حالانکہ اس کے نام میں لفظ اسلام بھی شامل ہے''.

انھوں نے کہا کہ ''اگر او آئی سی کے ترک سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوغلو نے مصر میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت کے اخوان المسلمون کے خلاف ہلاکت آفریں کریک ڈاؤن کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہوتا تو اس کا کوئی اثر بھی ہوتا''۔

بکیربزداج کے اس بیان سے قبل ہفتے کے روز ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان نے مصر میں تشدد کے حالیہ واقعات پر عالمی برادری کے ردعمل پر کڑی نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسی تنظیموں کو مصر کے حوالے سے کچھ نہ کرنے پر شرم کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ ترکی نے مصر کی نئی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور اس نے قاہرہ سے اپنے سفیر کو احتجاجاً واپس بلا لیا تھا۔ اس کے ردعمل میں مصر نے بھی اپنے سفیر کو انقرہ سے واپس بلا لیا ہے اور دونوں ممالک نے اکتوبر میں ہونے والی مشترکہ بحری فوجی مشقیں منسوخ کردی ہیں۔

ترکی کے دارالحکومت انقرہ، استنبول اور دوسرے شہروں میں مصر کے برطرف صدر محمد مرسی کے حق اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے فوجی اقدام کے خلاف روزانہ احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں