عبوری حکومت نے غزہ سے ملحق رفح کراسنگ بند کر دی

مصری علاقے میں سکیورٹی فورسز کا آپریش کلین اپ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر نے صحرائے سینا میں انتہا پسند عناصر کے حملے میں 24 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد رفح کراسنگ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔

غزہ کی وزارت داخلہ نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مصر نے گزشتہ ہفتے بھی رفح کراسنگ کو یہ کہتے ہوئے بند کر دیا تھا کہ یہ واحد زمینی راستہ جہاں سے اہل غزہ اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے مصر میں داخل ہو سکتے ہیں، مگر بعد ازاں جزوی طور پر ہفتے کے روز سے رفح کراسنگ کھول دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ مصری پولیس کے 24 اہلکار پیر روز جزیرہ نما سینا کے شمال میں رفح کے سرحدی علاقے میں ایک اچانک حملے میں ہلاک ہو ئے ہیں۔ قاہرہ سے العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق اس حملے میں تین پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

جمہوری طور پر منتخب صدر کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد سے جزیرہ نما سیناء کے علاقے میں پرتشدد کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے بعد مصری فوج نے علاقے کو مسلح دہشت گردوں سے صاف کرانے کے لئے کلین اپ آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

پیر کو ہونے والے حملے سے پہلے مصری سینٹرل پولیس کے تین اہلکار العریش میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان اہلکاروں کو نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے العریش میں واقع متعدد سیکیورٹی تنصیبات پر راکٹ حملوں کے بعد ہلاک کیا گیا۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تازہ حملہ اپنی نوعیت اور ہلاکتوں کے اعتبار سے زیادہ اہم سمجھا رہا ہے، کیونکہ انتہاپسند عناصر کی جانب سے ایسا ہی حملہ 2012 میں ہوا تھا، جس میں مصری پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد 16 تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں