مصر: جیل منتقلی کے دوران 38 اخوانی قیدی جاں بحق

سرکار اور اخوان کے متضاد دعوے، جیلوں کی حفاظتی نفری بڑھ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں 38 اسلام پسندوں کو اس وقت لقمہ اجل بنا دیا گیا جب وہ مبینہ طور پر جیل توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے جاں بحق ہونے والے ان قیدیوں کا تعلق اخوان المسلمون سے بتایا ہے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کسی نامعلوم بندوق بردار نے قیدیوں کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے اس نے ایک پولیس آفیسر کو اغواء بھی کیا۔ اس سے پہلے وزارت داخلہ کا موقف تھا کہ'' قیدیوں کو پولیس کے ذریعے قاہرہ کے شمال میں ابو زابل جیل میں منتقل کیا جا رہا تھا کہ انہوں نے ہنگامہ کر دیا۔

واضح رہے اخوان المسلمون اور اس کے اتحادی جو معزول کیے گئے صدر مرسی کی بحالی کا مطالبہ رکھتے ہیں نے پولیس پر قیدیوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سلسلے میں اخوان نے 38 قیدیوں کو ہلاک کیے جانے کے شواہد بھی مہیا کر لیے ہیں۔ اس کا موقف ہے کہ قیدوں کو گاڑی کے اندر فائرنگ کر کے اور آنسو گیس پھینک کر ہلاک کیا گیا ہے۔

تاہم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ''جب 612 قیدیوں کو پولیس ٹرک لے جا رہے تھے تو قیدیوں پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا اس دوران متعدد قیدی مارے گئے۔ سکیورٹی اداروں نے جیلوں کے لیے حفاظتی عملے کی تعداد بڑھا دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں