مغربی ممالک نے رقوم روکیں توعرب ممالک مصر کی امداد کو تیار ہیں: سعودالفیصل

سعودی وزیرخارجہ نے اخوان کے خلاف کریک ڈاؤن پر تنقید کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل کا کہنا ہے کہ اگر مغربی ممالک مصر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر اس ملک کے لیے امدادی رقوم کو روکتے ہیں تو عرب اور اسلامی ممالک اس کو امداد دینے کو تیار ہوں گے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے وزیرخارجہ سعود الفیصل کا سوموار کو ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''جن ممالک نے مصر کی امداد معطل کرنے کے اعلانات کیے ہیں یا اس کی دھمکی دی ہے تو ہم ان سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عرب اور مسلم ممالک امیر ہیں اور وہ مصر کی امداد کرنے میں تامل نہیں کریں گے''۔

وہ فرانس کے دورے سے سعودی عرب واپسی پر گفتگو کررہے تھے۔ جہاں انھوں نے فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے مصر کی صورت حال اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی تھی۔ فرانسیسی صدر نے مصر میں تشدد کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

شہزادہ سعودالفیصل نے مصر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے ہلاکت آفریں کریک ڈاؤن کی مغربی ممالک کی جانب سے مذمت پر تنقید کی اور کہا کہ مصر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''جن ممالک نے مصر سے متعلق منفی رویہ اختیار کر رکھا ہے، انھیں جان لینا چاہیے کہ تباہی اور بربادی صرف مصر تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے ان تمام پر اثرات مرتب ہوں گے جنھوں نے مصر میں بد امنی میں حصہ ڈالا''۔

سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ''جو ان حقائق کو نظرانداز کر کے پروپیگنڈے کی تشہیر کر رہے ہیں، انھیں ہم اچھے عقیدے کا حامل یا لاعلم نہیں گردانتے بلکہ ہم انھیں عرب اور اسلامی اقوام کے مفادات کے مخالف رویے کا حامل قرار دیں گے''۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سکیورٹی فورسز کی برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے دو احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے کریک ڈاؤن کارروائی کے بعد سے سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں اور مصری فورسز پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔

درایں اثناء امریکی سینیٹر اور سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار جان مکین نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ مصر کو دی جانے والی سالانہ ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز کی فوجی امداد معطل کردے۔

تاہم بعض امریکی ارکان کانگریس نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ مصر کی فوجی امداد کی کٹوتی سے اس کا اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ خطرات سے دوچار ہوسکتا ہے اور امریکا کو نہر سویز میں حاصل مراعات پر سمجھوتے کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔

امریکا کے علاوہ یورپی یونین کے بعض ممالک نے بھی مصر کی سکیورٹی فورسز کے برطرف صدر کے حامیوں کے خلاف خونین کریک ڈاؤن کی مذمت کی ہے۔ بدھ کو تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں یورپی یونین کے مصر کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائِے گا۔

یورپی یونین نے مصر کو 2012-2013ء کے دوران پانچ ارب یورو (چھے ارب سات کروڑ ڈالرز) کی امداد دینے کے وعدے کررکھے ہیں۔ ان میں کچھ رقم قرضوں اور کچھ گرانٹس کی شکل میں ہوگی اور اس میں سے ایک ارب یورو یورپی یونین اور باقی رقوم یورپی بنکوں ای آئی بی اور ای بی آر ڈی نے دینے کا وعدے کیے تھے لیکن اب یورپی یونین کی حالیہ دھمکیوں کے بعد مصر کو اس رقم کے ملنے کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ اسی لیے سعودی وزیر خارجہ نے مصر کو مالی امداد کی پیش کش کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں