ہزاروں شامی کرد باشندے عراقی کردستان ھجرت پرمجبور

ہجرت کردوں اور القاعدہ جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کا نتیجہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزین کے مطابق شام میں جاری لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں کرد باشندے عراق کے صوبہ کردستان ہجرت پر مجبور ہیں۔ رپورٹ کے مطابق روزانہ بڑی تعداد میں شامی کُرد دریائے دجلہ عبور کر کے عراقی کردستان داخل ہو رہے ہیں۔ ہفتے کے روز 10 ہزار جبکہ جمعرات کو 07 ہزار شامی کرد باشندوں نے دریائے دجلہ کا مشہور پل عبور کرکے کردستان میں پناہ حاصل کی۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق عراقی کردستان پہنچنے والے شامی باشندے تعداد میں اتنے زیادہ ہیں کہ تمام فلاحی تنظیمیں، اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اور انسانی حقوق کے گروپ مل کرب ھی ان کی مشکلات حل کرنے میں ناکام ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی بغاوت کی تحریک شروع ہونے کے بعد ملک کے کرد باشندوں کی پہلی مرتبہ اتنی کثیر تعداد پڑوسی ملک ہجرت پر مجبور ہے۔ شامی کردوں کی نقل مکانی کی سب سے بڑی وجہ کرد علاقوں میں کردوں اور القاعدہ کی ذیلی تنظیم "دولۃ شام وعراق" کے جنگجوؤں کے درمیان خونریز لڑائی ہے، جس کے باعث کرد آبادی غیرمحفوظ ہو چکی ہے۔

درایں اثناء شام میں باغیوں کی رابطہ کمیٹی نے بتایا ہے کی جیش الحر نے الرقہ شہرمیں تل ابیض کے مقام پراسد نواز لیبر پارٹی کے ہیڈ کواٹر پر گولہ باری کی ہے، جس کے نتیجے میں دفتر کو نقصان پہنچا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جیش الحر نے وادی گولان میں القنیطرہ ریجن میں الرویحنہ کے مقام پر قبضے کا دعویٰ کیا۔ باغی فوج کے زیر کمانڈ نواسان الرسول بریگیڈ کے فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرحدی علاقے بریقہ پرفتح پانے کے بعد الرویحنہ پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

شام کے بعض دوسرے صوبوں اورشہروں میں بھی باغیوں اور بشارالاسد کی وفادار فوج کے درمیان سخت لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ دمشق کے مضافاتی قصبے الزبدانی اور مشرقی الغوطہ کے کفر بطنا قصبے میں سرکاری فوج نے بھاری توپخانے اور راکٹوں سے باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

ساحلی شہر اللاذقیہ میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان کئی روز سے گھمسان کی جنگ بدستور جاری ہے۔ سرکاری فوج نے جبل الدروین اور باغیوں کے زیرانتظام بعض دیگر قصبوں میں لڑاکا جنگی جہازوں سے شیلنگ کی ہے۔ گذشتہ روز اللاذقیہ کے نواحی علاقے جبل الاکراد میں باغیوں نے سرکاری فوج کا ایک لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ باغیوں کی مقامی رابطہ کمیٹیوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی ایک جنگ جہاز کے مار گرائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں