.

علماء شام میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں: شاہ عبداللہ دوم

خانہ جنگی کا شکار ملک کی وحدت برقرار رہنی اور وہاں خونریزی ختم ہونی چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے دارالحکومت عمان میں ایک کانفرنس میں شریک مسلم علماء پر زوردیا ہے کہ وہ شام میں جاری فرقہ واریت پر قابو پانے اور اس کو پورے خطے میں پھیلنے سے روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔

انھوں نے منگل کو اردن کے شاہی آل البیت انسٹی ٹیوٹ برائے اسلامی تھاٹ میں منعقدہ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''آپ اسلامی دنیا کے اسکالرز ہیں اور یہ آپ سب کی ذمے داری ہے کہ آپ شام میں نسلی اور فرقہ وارانہ محاذ آرائی پر قابو پائیں''۔

اردنی شاہ نے کہا کہ ''شام میں خونریزی ختم ہونی چاہیے اور اس ملک اور تمام عرب اور اسلامی ممالک کے اتحاد اور یگانگت کو برقرار رکھا جانا چاہیے''۔ انھوں نے تکفیریوں کے مقابلے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ واضح رہے کہ یہ اصطلاح ان سنی مسلمانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو دوسروں کو اسلام کے غدار قرار دیتے ہیں۔

انھوں نے علماء اور اسلامی اسکالروں کو مخاطب ہو کر کہا کہ ''میں اسلامی دنیا کے تحفظ، اس کے اتحاد اور مسلمانوں کے ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی روش کی حوصلہ شکنی اور اہل سنت، اہل تشیع، سلفیوں، صوفیہ اور علویوں کے درمیان باہمی احترام کے فروغ کے لیے آپ کے تجویز کردہ کسی بھی اقدام پر عمل درآمد کے لیے تیار ہوں''۔

واضح رہے کہ ایران، لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور عراق کے اہل تشیع شامی صدر بشارالاسد کی سنی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کی کھلم کھلا حمایت کر رہے ہیں اور شام میں جاری خانہ جنگی اب مکمل فرقہ واریت کا روپ دھار چکی ہے۔ اہل سنت علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے صدر بشارالاسد کی حکومت کی چیرہ دستیوں کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔

لبنان میں شام کے متحارب گروہوں کی حمایت اور مخالفت کی بنا پر اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پر ہے اور وہاں ان کے درمیان آئے دن جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

امریکا کا اتحادی اردن ان خدشات کا اظہار کرچکا ہے کہ شام میں جاری فرقہ وارانہ بنیاد پر جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے اور اسلامی انتہا پسند وہاں اپنے قدم جما سکتے ہیں۔ شاہ عبداللہ دوم نے جون میں ایک انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ ''اگر شام کو سنی، شیعہ کی بنیاد پر توڑ پھوڑ کا شکار ہونے دیا گیا تو اس کے تباہ کن مضمرات ہوں گے''۔