.

مصر: اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع گرفتار

معزول صدر مرسی اور نائب مرشدعام خیرت الشاطر پہلے ہی گرفتار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس امرکا اعلان مصری وزارت داخہ نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ اطلاع پیر اور منگل کی درمیانی شب سامنے آئی ہے۔

مصر کے سرکاری اور نجی ٹیلی وژن چینلز نے محمد بدیع کی سکیورٹی فورسز کی حراست میں تصاویر جاری کر دی ہیں۔ ان تصاویر میں اسلام پسند رہنما کو واضح طور پر سکیورٹی فورسز کی حراست میں دیکھا جا سکتا ہے۔

سکیورٹی فورسز اس سے پہلے اخوان المسمون کے نائب مرشد عام خیرت الشاطر اور معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور اخوان کے درجنوں دوسرے رہنماوں اور سینکڑوں کارکنوں اور حامیوں کو بھی گرفتار کر چکی ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق مرشد عام محمد بدیع کو مسجد رابعہ العدوایہ کے قریب ایک اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ جہاں چند روز پہلے تک مرسی کی بحالی کے لیے طویل دھرنا جاری تھا تاہم سکیورٹی فورسز نے ایک خونی کریک ڈاون کے بعد اس دھرنے کو کامیابی سے ختم کر دیا۔

محمد بدیع جن کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے انہیں امکانی طور پر سکیورٹی فورسز کے خلاف اشتعال پھیلانے اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانے کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا جا ئے گا۔ دوسری جانب مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی رہائی کی راہ ہموار ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یاد رہے کے ہفتے کے روز رمسیس چوک میں ہونے والے ایک حکومت مخالف مظاہرے کے دوران محمد بدیع کے جواں سال بیٹے عمار بدیع کو مصر کی سکیورٹی فورسز نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

ستر سالہ محمد بدیع سن 1943ء میں پیدا ہوئے تھے اور وہ 2010ء میں مصر میں اخوان المسلمون کے سربراہ مقرر کيے گئے۔ تین جولائی کو محمد مرسی کو اقتدار سے الگ کیے جانے بعد ہی سے وہ مسلسل روپوش تھے۔ کارکنوں کو مظاہروں پر اکسانے سمیت دیگر کئی الزامات کے تحت دس جولائی کو ان کی گرفتاری کا حکم جاری کر ديا گیا تھا۔

قبل ازیں عبوری انتظامیہ کی جانب سے ان کے تمام اثاثہ جات بھی منجمد کر ديے گئے تھے۔ محمد بدیع کی تمام عمر جدوجہد سے عبارت رہی ہے۔ وہ اس سے قبل بھی کئی بار سیاسی وجوہات کی بنا پر گرفتار ہوچکے ہیں۔