.

اخوان المسلمون سے وابستہ معروف عالم دین صفوت حجازی گرفتار

حریت اورعدل پارٹی کے ترجمان مراد علی قاہرہ کے ہوائی اڈے پر پکڑے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکام نے معروف سلفی عالم دین صفوت حجازی سمیت اخوان المسلمون کی دو اور اہم شخصیات کو گرفتار کر لیا ہے۔

مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) کی اطلاع کے مطابق علامہ صفوت حجازی کو بدھ کو علی الصباح لیبیا کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے سیوہ مطروح میں ایک چیک پوائنٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مصر سے سرحد عبور کر کے لیبیا جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ صفوت حجازی مصری حکام کو لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں مطلوب ہیں۔

مصر کے سکیورٹی حکام نے قاہرہ کے ہوائی اڈے پر اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی کے ترجمان مرادعلی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ وہ مبینہ طور پر اٹلی جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

قبل ازیں اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع اور دوسرے قائدین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ان سب پر ایک ہی جیسے دو الزامات عاید کیے گئے ہیں: ایک، مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا الزام اور دوسرا، لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام۔

مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے اخوان کے مرشد عام کو سوموار کو پندرہ روز کے لیے زیرحراست رکھنے کا حکم جاری فرمایا تھا۔ اس دوران ان سے دسمبر 2012ء میں قاہرہ میں ایوان صدر کے باہر مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے الزامات میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ واضح رہے کہ پراسیکیوٹر نے سابق صدر محمد مرسی کو بھی انھی الزامات کے تحت پندرہ روز کے لیے زیرحراست رکھنے کا حکم دیا ہے۔

اخوان کے مرشدعام ستر سالہ بزرگ محمد بدیع کو رابعہ العدویہ اسکوائر کے نزدیک واقع ایک اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق انھیں طرہ جیل میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں سابق صدر حسنی مبارک اور دوسرے سابق اعلیٰ عہدے دار قید ہیں۔ اخوان کے سربراہ کے خلاف 25 اگست سے مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں قائم کیا گیا مقدمہ چلایا جائے گا۔