.

دمشق: زہریلی گیس والے بم حملوں میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں

زہریلی گیس سے زیادہ تر کم عمر بچے متاثر ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں بشار الاسد کی وفادار فوج نے میزائل حملے کئے ہیں جن سے مہلک گیس کے اخراج سے بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

باغیوں کی ترجمان خبر رساں ایجنسی "سانا الثورہ" کی رپورٹ کے مطابق دمشق کے نواحی علاقے عین ترما میں مہلک گیس کے میزائل حملوں میں کم سے کم 20 افراد ہلاک اور 70 شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ "جوبر" اور "زملکا" کے مقامات پرمُہلک گیس پھیلنے سے بچوں اور خواتین سمیت 50 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی بتائے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی اطلاع ہے کہ مہلک گیس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی علاقوں سے زمینی اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں اور گیس وہاں بھی پھیل چکی ہے۔

"سانا الثورہ" نے طبی ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ دمشق اور اس کے مضافات میں باغیوں کے خلاف میزائل حملوں میں مہلک سیرین گیس استعمال کی گئی ہے۔ دمشق کے ایک فیلڈ استپال میں لائے گئے زخمیوں اور میتوں کو اسی گیس سے متاثر بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسدی فوج کی تازہ کارروائی میں مارے جانے والے زیادہ تر عام شہری خاص طور پر کم عمر بچے شامل ہیں۔

شام میں حکومت مخالف سماجی کارکنوں نے ویب سائٹ پرایک ویڈیو فوٹیج اپ لوڈ کی ہے جس میں عین ترما، زملکا اور جوبر میں زہریلی گیس سے متاثرہ بڑی تعداد میں بچوں اور خواتین کوبے ہوش دکھایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ مہلک گیس سے لیس میزائل حملوں کا ہدف بنائے گئے یہ تینوں قصبے دمشق کے جنوب میں واقع ہیں اور جغرافیائی طور پر باہم مربوط ہیں۔

زملکا میں ایک سماجی کارکن نے بتایا کہ مہلک گیس پھیلانے والے بم حملوں کے نتیجے میں علاقے میں خوفناک انسانی المیہ رونما ہوچکا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں زہریلی گیس سے متاثرہ سیکڑوں بچے اور خواتین بے یارو مددگار سسک سسک کر مر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکن کا کہنا تھا کہ اب تک اسپتالوں میں لائی جانے والی میتیں اور تمام زخمی عام شہری ہیں۔ سڑکوں اور گلیوں میں اب بھی بڑی تعداد میں میتیں اور زخمی پڑے ہوئے ہیں۔

زملکا کے موبائل اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ چند گھنٹوں کے دوران اسپتال میں کم سے کم 200 زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں بیشتر بچے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زملکا قصبے میں صرف دو موبائل اسپتال ہیں، جن کے پاس ادویہ، ڈاکٹر اور ایمبولینس سروسز کی شدید قلت ہے، جس کے باعث وہ زخمیوں کا مناسب علاج نہیں کر پار ہے ہیں۔ ڈاکٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ مہلک گیس سے متاثرہ شہریوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اسپتال میں مسلسل زخمیوں کو لایا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں سرکاری فوج نے مہلک گیس خارج کرنے والے میزائل حملے ایک ایسے وقت میں کیے ہیں جب اقوام متحدہ کے کیمیائی معائنہ کاروں کا ایک مشن کیمیائی ہھتیاروں کے استعمال کی تحقیقات میں بھی مصروف ہے۔