.

شام سے یو این معائنہ کاروں کو کیمیائی ہتھیاروں کی جگہ تک رسائی دینے کا مطالبہ

شامی دارالحکومت کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں 1300 افراد کی ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی جگہ تک فوری رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع قصبے غوطہ میں بدھ کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں ایک ہزار تین سو افراد کی ہلاکتوں کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے ان رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم مزید معلومات کے حصول کے لیے ہنگامی بنیاد پر کام کر رہے ہیں''۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آج بدھ کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق 19:00 بجے ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے جس میں شام میں زہریلی گیس کے تباہ کن حملے میں ہلاکتوں کی رپورٹس پر غور کیا جائے گا۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دوعشرے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کا یہ بدترین حملہ ہے۔

مغربی اور علاقائی ممالک نے اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کریں۔ عالمی ادارے کے معائنہ کار تین روز قبل ہی دمشق پہنچے تھے لیکن وہ شام میں اس سے پہلے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات کے لیے آئے تھے لیکن اس دوران غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ہلاکت آفریں واقعہ کی تفصیل سامنے آگئی ہے۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو شام میں برسر زمین حقائق جاننے کے لیے داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا اور وہ ترکی میں متاثرہ شامیوں کے خون کے نمونوں سمیت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق شواہد اکٹھے کرتے رہے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق دعووں کی تحقیقات کے لیے سویڈش ماہر آکے سیل اسٹارم کی سربراہی میں ٹیم مقرر کی تھی۔ اب یہ ٹیم شام میں اعصاب شکن سارن گیس سمیت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کرے گی۔ وہ متاثرہ افراد کے خون کے نمونے لے گی اور اس حوالے سے انٹیلی جنس شواہد بھی اکٹھے کرسکے گی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے شامی حکومت اور باغی جنگجوؤں نے ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات عاید کیے تھے۔ اسد حکومت نے اقوام متحدہ سے اس کی تحقیقات کی درخواست کی تھی لیکن اب حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج پر حکومت مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

امریکا اور برطانیہ ماضی میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم کو شام میں صدر بشارالاسد کی فورسز کے مخالفین پر کیمیائی ہتھیاروں کے دس مبینہ حملوں کے بارے میں ثبوت فراہم کرچکے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے علاوہ فرانس نے بھی شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ثبوت سیل اسٹارم کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو بھیجے ہیں۔

ان مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ شامی صدر کی وفادار فوج ہی نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں اور انھیں حزب اختلاف کے جنگجوؤں کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں لیکن شامی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ شام میں غیر ملکی فوجی مداخلت کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات عاید کیے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون متعدد مرتبہ ماہرین کی اس ٹیم کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے مشتبہ جگہوں تک بلا روک ٹوک رسائی دینے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ مغربی ممالک کی جانب سے شام کے خلاف پیش کردہ تفصیل کو بطور شواہد تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اس کے بجائے عالمی ادارے کے ماہرین برسرزمین اپنے شواہد اکٹھے کریں گے اور ان کی بنیاد پر تحقیقات کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

یاد رہے کہ شام کے پاس 1970ء کے عشرے سے مختلف النوع کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے اور مشرق وسطیٰ میں اس کے پاس سب سے زیادہ کیمیائی ہتھیار بتائے جاتے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کے بہ قول ان کو رکھنے کا مقصد واضح نہیں ہے۔ شام نے کیمیاوی ہتھیاروں کے کنونشن 1992ء پر دستخط نہیں کیے تھے۔ اس کنونشن کے تحت ان ہتھیاروں کے استعمال ،تیاری اور ذخیرہ کرنے پر پابندی عاید ہے۔ او پی سی ڈبلیو اس معاہدے پر عمل درآمد کی ذمے دار ہے۔