عبوری حکومت سے مستعفی ہونے والے البرادعی کیخلاف مقدمہ دائر

انقلابیوں کو اعتماد میں نہ لینےاور فیصلے تسلیم نہ کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کی عبوری حکومت میں تقریبا ایک ماہ تک نائب صدر رہنے اور بعد ازاں سیکورٹی فوسز کے کریک ڈاون میں معزول صدر مرسی کے سینکڑوں حامیوں کے مارے جانے کے باعث مستعفی ہو جانے والے محمد البرادعی کو'' انقلابیوں'' کے اعتماد مجروح کرنے پر مقدمے کا سامنا ہے ۔

سابق عبوری نائب صدر کے خلاف یہ مقدمہ حلوان یونیورسٹی میں کریمنل لاء کے شعبے کے سر براہ اور معروف قانون دان الساعد عتیق کی طرف سے دائر کیا گیا ہے ۔ الساعد عتیق کے مطابق البرادعی کو عبوری حکومت میں '' نیشنل سالویشن فرنٹ'' اور دیگر انقلابی تحریکوں کی نمائندگی کے لیے عبوری نائب صدر کے منصب پر فائز کیا گیا تھا ، لیکن انہوں نے اس منصب سے مستعفی ہونے سے قبل ان جماعتوں سے مشورہ نہ کرکے ان کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔

اس دائر کیے گئے مقدمے میں البرادعی پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ مرسی کے حامیوں کا مسجد رابع العدوایہ سے دھرنا ختم کرانے اور انہیں منتشر کرنے میں وہ ناکام رہے۔ حتی کہ انہوں نے عبوری حکومت کے اس فیصلے کی ذمہ داری قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا جس فیصلے سے انہیں اتفاق نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں