یورپی یونین: مصر کو اسلحہ اور سکیورٹی آلات کی فروخت معطل کرنے سے اتفاق

مصریوں کو مشکلات سے دوچار ہونے سے بچانے کے لیے مالی امداد جاری رکھنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے مصر کو ملک کے اندر جبرو تشدد کی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے اسلحے اور سکیورٹی آلات کی فروخت معطل کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

اٹھائیس یورپی ممالک پر مشتمل تنظیم کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے برسلز میں بدھ کو اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''وزراء نے مصر کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے غیر متناسب استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ انھوں نے حکومت کے مخالفین کی جانب سے بھی طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم مصر میں تشدد کی حالیہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور یہ یقین کرتے ہیں کہ فوج کے حالیہ اقدامات بالکل غیر متناسب ہیں''۔

یورپی وزرائے خارجہ نے مصری سکیورٹی فورسز کو اسلحے اور سکیورٹی آلات کی ترسیل روکنے سے تو اتفاق کیا ہے لیکن مصر کے لیے امدادی پروگراموں کو معطل نہیں کیا اور اس ضمن میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس سے عام مصری شہری متاثر ہوسکتے ہیں۔

کیتھرین آشٹن نے کہا کہ ''ہم مصر کے لیے امداد کا جائزہ لیں گے لیکن ضرورت مندوں کے لیے امداد جاری رہے گی کیونکہ تمام رکن ممالک مصری عوام کے لیے امداد کو جاری رکھنے کے حق میں ہیں''۔

یورپی وزرائے خارجہ نے مصر کو ایسے آلات کی برآمد کے لیے لائسنس معطل کرنے سے اتفاق کیا ہے جو اندرون ملک جبر وتشدد کی کارروائیوں میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ وہ اسلحے کے برآمدی لائسنسوں اور مصر کے لیے سکیورٹی امداد کا بھی جائزہ لیں گے۔

واضح رہے کہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں گذشتہ ہفتے برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے خونریز کریک ڈاؤن اور اس کے ردعمل میں احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ مصری فورسز نے سابق حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے رہ نماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں