.

تیونس کی حکمراں جماعت ٹریڈ یونین کے منصوبے کو تسلیم کرنے کو تیار

النہضہ غیرجانبدارحکومت کے قیام کے لیے اپوزیشن سے مذاکرات کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی حکمراں اسلامی جماعت النہضہ سیکولر حزب اختلاف کے ساتھ ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات کے قریب پہنچ گئی ہے اور اس نے طاقتور ٹریڈ یونینوں کے انتقال اقتدار کے لیے تجویز کردہ منصوبے سے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے۔

النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے تیونس میں جاری بحران کے فوری حل کی راہ ہموار ہوگی۔ یو جی ٹی ٹی ٹریڈ یونین فیڈریشن النہضہ اور اس کی سیاسی مخالف سیکولر حزب اختلاف کے درمیان بات چیت میں ثالثی کا کردار ادا کررہی ہے۔ اس نے موجودہ حکومت کی جگہ غیر جانبدار عبوری کابینہ تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے جو ملک میں آیندہ عام انتخابات کرائے گی۔

النہضہ کی قیادت نے ماضی میں غیر جانبدار حکومت کے قیام کی تجویز مسترد کر دی تھی لیکن اس ہفتے اس کے موقف میں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ راشدالغنوشی نے یو جی ٹی ٹی کے سیکرٹری جنرل حسین عباسی کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم بہت جلد اس بحران سے نکل آئیں گے۔ ہم نے حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے یو جی ٹی ٹی کے اقدام سے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمارے خیال میں یہ بات چیت بہت جلد شروع ہوجائے گی''۔ تاہم انھوں نے اپنی جماعت کے موقف کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔ انھوں نے گذشتہ جمعرات کو دارالحکومت تیونس میں نیوز کانفرنس میں اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ ''وہ قومی اتحاد کی حکومت کو قبول کرنے کو تیار ہیں لیکن اس کی یہ شرط ہے کہ اس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہونی چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ '' ہم غیر جماعتی حکومت کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ اس طرح کی حکومت ملک کی موجودہ پیچیدہ صورت حال کا ازالہ نہیں کرسکتی ہے''۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ملک کو درپیش سیاسی اور اقتصادی ایشوز سے نمٹنے کے لیے بہت زیادہ وقت درکار ہے۔

تیونس کی سیکولر حزب اختلاف کی جماعتیں گذشتہ مہینوں کے دوران حکومت مخالف دو لیڈروں کے قتل کے بعد سے احتجاجی مظاہرے کررہی ہیں۔ وہ دستورساز اسمبلی کی تحلیل اور النہضہ کی قیادت میں کابینہ کو برطرف کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ تیونس میں النہضہ کی قیادت میں تین جماعتی اتحاد حکمراں ہے۔ اس میں دو چھوٹی سیکولر جماعتیں شامل ہیں۔حزب اختلاف کی جماعتوں کا اس حکومت پر الزام ہے کہ وہ ملک میں جاری اقتصادی بحران کے خاتمے اور سخت گیر سلفیوں کی کارروائیوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔