.

حسنی مبارک جیل سے رہا، قاہرہ کے فوجی اسپتال منتقل

سابق مطلق العنان صدر کو گھر پر نظر بند رکھا جائے گا: عبوری وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکام نےعدالت کے حکم پر سابق صدر حسنی مبارک کو جیل سے رہا کردیا ہے اور انھیں قاہرہ کے ایک فوجی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

مصر کے سرکاری ٹی وی کی اطلاع کے مطابق پچاسی سالہ علیل حسنی مبارک کو قاہرہ کے جنوب میں واقع طرہ جیل سے جمعرات کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے فوج کے زیرانتظام انٹرنیشنل میڈیکل سنٹر میں منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ نظربند رہیں گے۔

مصر کے عبوری وزیر اعظم حاذم الببلاوی کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر گھر پر نظربند رہیں گے اور یہ فیصلہ ملک میں ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

حسنی مبارک کی جیل سے رہائی پر مصریوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جس شخص نے اس ملک کو تباہی سے دوچار کیا، اس کو توجیل سے رہا کیا جا رہا ہے لیکن جو لوگ ملک میں حقیقی تبدیلی اور جمہوریت کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، انھیں پس دیوار زنداں کیا جا رہا ہے۔ تاہم سابق مطلق العنان صدر کے بعض حامیوں نے ان کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔

درایں اثناء مسلح افواج کے غیظ وغضب کا نشانہ بننے والی جماعت اخوان المسلمون نے جمعہ کو یوم الشہداء منانے کا اعلان کیا ہے۔ حسنی مبارک کی رہائی پر جماعت کا کہنا ہے کہ فوج سابق نظام حکومت کو بحال کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ فوج کی نگرانی میں قائم ہونے والی عبوری حکومت ملک کی سب سے منظم اسلامی تحریک کے خلاف انتقامی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے تعبیر کررہی ہے۔

حسنی مبارک مصری قانون کے تحت مظاہرین کی ہلاکتوں کے کیس میں ٹرائل سے قبل زیادہ سے زیادہ حراستی مدت جیل میں گزار چکے ہیں۔ اس لیے اب انھیں فنی بنیاد پر رہا کیا جاسکتا ہے۔ انھیں اس سے پہلے فنی بنیادوں پر بدعنوانی کے الزامات کے تحت قائم کیے گئے دو مقدمات میں بری کردیا گیا تھا۔

قاہرہ کی ایک عدالت نے حسنی مبارک کو 2 جون 2012ء کو 2011ء کے اوائل میں ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں عمرقید کی سزا سنائی تھی۔ قاہرہ کی اپیل عدالت نے جنوری 2013ء میں سابق صدر کی نظر ثانی کی درخواست پر اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ اب ان کے خلاف یہ مقدمہ تو چلایا جائے گا لیکن اس دوران انھیں حکومت کے حکم پر گھر پر یا فوجی اسپتال میں نظربند رکھا جائے گا۔