.

''گرفتاریوں سے بچنے کے لیے داڑھی منڈوانا جائز ہے یا نہیں''

اخوانی خطیب صفوت الحجازی کی گرفتاری کے بعد نئی بحث کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اخوان المسلمون سے وابستہ عالم دین صفوت الحجازی کی گرفتاری کے وقت چہرے پر داڑھی موجود نہ ہونے کے واقعے سے یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اخوان المسلمون کے بعض حامیوں نے عبوری حکومت کی جانب سے باریش افراد کی بڑی تعداد میں گرفتاریوں کے بعد گرفتاریوں سے بچنے کی خاطر داڑھیاں منڈوانے کا فتوی حاصل کر لیا ہے۔

اس بارے میں شائع ہونے والی میڈیا رپورٹس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اسی ہفتے میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے صفوت الحجازی نے مبینہ طور پر ڈاکٹر محمد عبدالمقصود کے فتوے پرعمل کر کے داڑھی منڈوائی ہے۔ ڈاکٹر عبدالمقصود نے پہلے سے فتوی دے رکھا ہے کہ'' معزول صدر مرسی کے حامی مظاہرین کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ فوج اور پولیس کی گرفتاریوں سے بچنے کے لیے اپنی داڑھیاں منڈواسکتے ہیں۔''

مسلمان مردوں کے لیے داڑھی کی غیر معمولی اہمیت کے قائل علماء اس طرح داڑھی منڈوانے کو قابل قبول قرار نہیں دیتے ہیں۔ اس حوالے سے مجلس علماء کے رکن شیخ ابو اسحاق الحوائینی نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' داڑھی منڈوانا غلط ہے، ایسا کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کے خلاف ہے۔''

داڑٰھی کے حوالے سے اس بحث کا آغاز کچھ عرصہ قبل اس وقت ہوا تھا جب مصری پولیس کے بعض اہلکاروں کو لمبی داڑھیوں کے باعث معطلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر مصر کے مفتی اعظم علی جمعہ نے فتوی دیا تھا کہ'' داڑھی بڑھانا اور داڑھی کٹوانا دونوں کا شریعت سے تعلق نہیں ہے۔''