.

شام : کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، ابھی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا

سفارتی تعلقات کا نہ ہونا معلومات تک رسائی میں رکاو ٹ ہے: امریکی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا شام میں مبینہ طور کیمیائی ہتھیاروں سے ہلاکتوں کے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم فوری طور پر اس بارے میں کچھ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ یہ واقعہ کیسے ہوا اور کیا واقعی اس میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہوا۔ اس امر کا اظہار امریکی ترجمان پاسکی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

امریکی ترجمان کے مطابق شامی دارالحکومت دمشق کے قریب ہونے والے واقعے سے لے کر اب تک اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں جبکہ صدر باراک اوباما نے امریکی انٹیلی جنس اداروں کو حکم دیا ہے کہ جلد سے جلد اس بارے میں معلومات فراہم کریں۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی ترجمان نے کہا یہ معلومات ہر ممکن طریقے سے حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے انٹیلی جنس ادارے بھی اپنا کام کر رہے ہیں، عمومی ذرائع بھی اور سائنٹیفک ذرائع کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔ لیکن شام کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے صحیح نتیجے تک پہنچنا ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ دمشق کے مضافات میں ہونے والے اس واقعے میں مبینہ طور پانچ سو سے 1300 شہریوں کے لقمہ اجل بن گئے تھے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس سلسلے میں یورپی یونین اور مشرق وسطی کے وزرائے خارجہ سے بھی بات کی ہے۔

اس سے پہلے امریکا شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کو سرخ لائن عبور کرنے سے مترادف قرار دے چکا ہے۔ بعد ازاں 13 جون کو اس امر کے شواہد مل گئے تھے کہ شامی رجیم نے ریڈ لائن کو کراس کیا ہے۔

امریکا ان 36 ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے اس واقعے کے بعد اقوام متحدہ سے سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔