.

غزہ میں اسرائیلی، فلسطینی مذاکرات کے خلاف احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ شہر میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی، فلسطینی امن مذاکرات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرے کا اہتمام غزہ کی حکمراں حماس اور مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد نے کیا تھا۔

غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں سے نماز جمعہ کے بعد مساجد کے باہر سے ریلیاں نکالی گئیں اور ان کے شرکاء غزہ شہر میں مرکزی مظاہرے کے ساتھ شامل ہوگئے۔ مظاہرین نے امن مذاکرات کے خلاف نعرے بازی کی اور مغربی کنارے میں فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کی مذمت کی اور اسے ایک ''سیاسی ناکامی'' قرار دیا۔

حماس کے مذہبی امور کے وزیر اسماعیل رضوان نے ریلی کے شرکاء سے تقریر کے دوران صدر محمود عباس سے مخاطب ہو کر کہا کہ ''تمام فلسطینی دھڑے آپ سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کو ہماری سرزمین کے ایک ٹکڑے یا فلسطینی حقوق سے دستبردار ہونے کا کوئی حق نہیں ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''مذاکرات میں دوبارہ شرکت جہاد اور ہمارے لوگوں کی قربانیوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔ یہ ہمارے شہداء کے خون اور اسرائیلی جیلوں میں قید ہمارے فلسطینیوں کے ساتھ بھی غداری ہے''۔

حماس کا کہنا ہے کہ محمودعباس کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ہے۔ اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں نے گذشتہ منگل کو مقبوضہ بیت المقدس میں بات چیت کی تھی۔

لیکن اس بات چیت کے آغاز سے قبل ہی اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے 2129 نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا ہے۔ اس پر فلسطینی حکام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے امن مذاکرات قبل از وقت اور خوفناک انجام سے دوچار ہوسکتے ہیں۔