.

نقل مکانی کرنے والے شامی بچوں کی تعداد دس لاکھ ہو گئی

صرف لبنان میں تین لاکھ بچے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام سے نقل مکانی کر کے دوسرے ملکوں میں پناہ لینے والوں میں شامل بچوں کی تعداد دس لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی طرف سے جمعہ کے رو ز کہی گئی ہے ۔اقوام متحدہ کے علاقائی ترجمان پیٹر کیسلر نے'' العربیہ '' کو بتایا کہ عالمی برادری کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی پناہ گزینوں کی اس سونامی کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ترجمان کے مطابق پورے شام سے تقریبا انیس لاکھ پناہ گزین شام سے نقل مکانی کر کے علاقے کے مختلف ممالک میں پہنچے ہیں۔ ان نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد برطانوی شہر برمنگھم کی آبادی کے برابر ہے۔ یہ تقریبا انیس لاکھ شامی شہری ترکی، لبنان،عراق، اردن اور شمالی افریقہ میں پناہ گزین ہوئے ہیں۔ ان میں چالیس ہزار کی تعداد میں کرد بھی شامل ہیں جو گزشتہ ہفتے ہی عراق میں منتقل ہوئے ہیں۔

شام سے نقل مکانی کرنے والوں میں سے صرف لبنان پہنچنے والوں میں تین لاکھ بچے شامل ہیں، جبکہ بیس ہزار کی تعداد میں وہ بچے بھی ہیں جن کے والدین اور خاندان ان کے ساتھ موجود نہیں ہیں اور انہوں نے مختلف وجوہ کی بنیاد پر تنہا سرحد عبور کر کے پناہ لی ہے ۔

لبنان میں پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کے ترجمان کے مطابق لبنان میں اس وقت شامی پناہ گزینوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ لبنان میں اب تک تیس ہزار بچوں کو سکولوں میں داخلہ دیا جا چکا ہے اور مزید تیس ہزار کو داخلہ آئندہ دنوں میں دیا جانے کا امکان ہے۔

اقوام متحدہ کے مقامی ترجمان کے مطابق ان بچوں کی دیکھ بھال کے لیے وسائل کی ضرورت ہے، جو اس وقت محدود ہیں۔ ان نقل مکانی کر کے لبنان اور دیگر ملکوں میں پہنچنے والوں کے علاوہ شام میں موجود بیس لاکھ بچے بھی سخت مشکل صورت حال سے دوچار ہیں.