.

اردن، امریکا کی دعوت پرعالمی عسکری قیادت کا اجلاس عمان میں طلب

شام کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کے لئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے ایک اعلیٰ سطحی عسکری ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ مغربی ملکوں بالخصوص امریکا، برطانیہ، فرانس اور عرب ممالک کی فوجی قیادت کا اہم اجلاس اگلے چند روز میں عمان میں ہو رہا ہے۔ اجلاس میں شام کی موجودہ صورت حال اور اس کے خطے پر پڑنے والے اثرات کے تناظرمیں مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے پرغور کیا جائے گا۔

اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "پیٹرا" نے مسلح افواج کے ایک سرکردہ عہدیدارکا بیان نقل کیا ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ شام کے بارے میں متوقع اجلاس آرمی چیف جنرل مشعل محمد الزبن اور امریکی سینٹرل سیکیورٹی کمانڈ کے چیف جنرل لوڈ اوسٹن کی مشترکہ دعوت پر طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں امریکی فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل مارٹن ڈمپسی سمیت فرانس، برطانیہ، اٹلی، کینیڈا، سعودی عرب، قطر، ترکی اور کئی دیگر ممالک کی عسکری قیادت شرکت کرے گی۔

اردنی فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ عمان میں ہونے والے اجلاس کا اہم مقصد شام کی موجودہ صورت حال، مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پراس کے اثرات پرغور کرنا اور بحران کے حل کے لیے دوست ممالک کے مابین دفاعی تعاون بڑھانے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنا ہے۔

نیز اجلاس میں شام میں جاری شورش سے اردن کی سلامتی اور اس کی خود مختاری کو لاحق خطرات اور ان کے تدارک کے طریقہ کار پر بھی غور کیا جائے گا۔

مبصرین کے مطابق اردن میں عالمی عسکری قیادت کا یہ اجلاس وقت کے اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام میں بشار الاسد کی فوج کی جانب سے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں پر عالمی برادری میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکا نے اپنی فوج کو بحیرہ روم میں شام کے قریب کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکا پہلے ہی شام کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اردن میں اپنے ایف 16 جنگی جہاز اور پیٹریاٹ میزائل نصب کر چکا ہے۔ گذشتہ ماہ امریکی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا تھا کہ ان کا ملک اردن میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر ایک ہزار تک لے جانا چاہتا ہے۔