.

سعودی مسجد میں جنرل سیسی کے حامی مصری کی پٹائی

عالم دین کی مصر و شام کے حکمرانوں کو بددعاوں پر جھگڑا ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک مسجد میں سعودی شہریوں اور مصریوں کے درمیان اس وقت لڑائی جھگڑے کی صورتحال پیدا ہو گئی جب ایک سعودی عالم دین مصرکے منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کو برطرف کرنے والے فوجی سربراہ کا ذکرکرتے ہوئے غصے سے پھٹ پڑے۔ یہ واقعہ سعودی دارالحکومت کی ایک مسجد میں پیش آیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عالم دین شام اور مصر دونوں کے موجودہ حکمرانوں سے نجات کی دعا کر رہے تھے کہ اچانک مسجد میں موجود مصری شہریوں کی وجہ سے ہنگامے کا ماحول بن گیا۔ یہ سلسلہ کچھ دیر جاری رہا۔

مصری شہریوں کا کہنا تھا کہ مصری لوگ اپنا برا بھلا بہتر جانتے ہیں اس لیے کسی عالم دین کو مصر کی صورتحال پر سرپرستانہ انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی موقف تھا کہ علماء کو سیاست پر بات نہیں کرنا چاہیے۔ مصری شہریوں میں سے ایک نے انتہائی سخت لہجے میں کہا ''اگرآئندہ کبھی کسی عالم دین نے ایسی بات کی تو اس کا جبڑا توڑ دیا جائے گا ۔ کبھی دوبارہ سیاسی رائے کا اظہار نہ کیا جائے۔''

اس سخت گوئی پر سعودی شہریوں نے مسجد میں ہی مصر کے فوجی سربراہ کے حامی مصری کی دھنائی شروع کر دی، تاہم کچھ دیر میں صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔ لیکن جنرل سیسی کے باعث سامنے آنے والے اس واقعے کی فوٹیج ٹوئٹر اور یو ٹیوب کے ذریعے ہر طرف پھیل گئی۔