.

لبنان : مساجد کے باہر دھماکے، ہلاکتیں 42 ہو گئیں

زخمیوں کی تعداد 500 ہو گئی،25 سال بعد پہلی بار بڑے واقعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمال میں واقع طرابلس شہر کی دو مساجد کے باہر پانچ منٹ کے وقفے سے ہو نے والے دو بم دھماکوں میں اب تک 42 افراد ہلاک اور 500 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصد یق ہوئی ہے۔ یہ دونو ں بم دھماکے گزشتہ روز نماز جمعہ کے بعد ہوئے تھے۔ واضح رہے لبنان کے جنوب میں واقع حزب اللہ کے مرکز کے قریب ہونے والے دھماکے کے ایک ہفتے بعد یہ دھماکے سنی اکثریت کے شہر میں ہوئے ہیں۔

ریڈ کراس کے لبنانی حکام کے مطابق تقریبا 25 برسوں کے دوران طرابلس میں اس قدر ہلاکت خیزی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے 1975 اور 1990 کے درمیان خانہ جنگی کے باعث اس شہر میں واقعات ہو ئے تھے۔

ایک سنی سیاسی جماعت سے وابستہ سیاستدان مصطفی الوش جب اس واقعے کی سنگینی کا جائزہ لینے کے لیے گئے تو انہیں مقامی ہسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ اب تک چھ افراد جاں بحق ہو چکے تھے، تاہم مزید زخمیوں کے لیے ہسپتال میں جگہ کم پڑجانے کی وجہ سے انہیں دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔

پہلا دھماکہ شہر کے مرکز میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم نجیب میقاتی کی رہائش گاہ کے نزدیک تقوی مسجد کے باہر ہوا۔ جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر سات افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع سامنے آئی ۔ جبکہ دوسرا دھماکہ طرابلس کی بندرگاہ کے قریب سلام مسجد کے باہر ہوا۔

دونوں دھماکوں کے بعد مساجد کے باہر کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور پورا علاقہ دھماکے کے اثرات کی لپیٹ میں آ گیا۔ زخمیوں اور مرنے والوں کو اٹھا کر لوگوں نے ہسپتالوں میں پہنچانا شروع کر دیا، جبکہ بعض افراد نے دھماکے پر غصے کا اظہار ہوائی فائرنگ کر کے کیا۔ بعض جگہوں پر ناراض لوگوں نے لبنانی پولیس اہکاروں پر راکٹ بھی فائر کیے۔ ان دونوں دھماکوں کے نتیجے میں اب تک 42 افراد جاں بحق اور پانچ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ لبنان میں پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی کے متحارب فریقوں کی حمایت اور مخالفت کی بنا پر شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے اور طرابلس میں گذشتہ مہینوں کے دوران اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان مسلح جھڑپوں میں متعدد افراد مارے جا چکے ہیں۔ لبنانی دارالحکومت بیروت میں اس سے پہلے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مضبوط مراکز میں بم دھماکے ہو چکے ہیں لیکن طرابلس میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس طرح اہل سنت کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔