.

مصر میں یوم البوسہ: ''افسوس کہ فرعون کو بوسے کی نہ سوجھی''

ہلاکتوں اور خونریزی کو فراموش کرنے کیلے یوم بوسہ منانے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ادھر سعودی شاہ عبداللہ نے ہاتھ چومنے کو غلط روائت قرار دے کر اس پر پابندی عائد کی اور اِدھر قاہرہ میں یوم بوسہ منانے کا اعلان سامنے آ گیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ شاہ عبداللہ نے ایک غلط روایت کے خاتمے کے لیے دست بوسی پر قدغن لگائی ہے اور مصر میں بعض لوگوں نے فیس بک کے ذریعے ان ہلاکتوں اور خونریزی کی یادوں کو بوسہ بازی یا بوس و کنار کے خوشگوار آنگن میں دفن کرنے کا سوچا ہے ۔

تیس اگست کو بوسہ بازی کا باضابطہ دن منانے کی اپیل کے حق میں استفہامیہ موقف ہے کہ '' کیا اس سے خوبصورت کوئی بات ہو سکتی ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے محبت کرتے اور بوسہ بازی یعنی ایک دوسرے کو محبت سے چومتے ہوئے دیکھا جائے، تاکہ ایک صحت مند اور اعتدال پسند معاشرے کی تشکیل ہو سکے۔ نہ کہ ایک ایسا معاشرہ پروان چڑھے جس میں انتہا پسند ہوں، حرام کی پابندیاں ہوں اور نفرت ہو۔''

مصری معاشرہ جس میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں بلکہ اکثریت ہے جو اس کے برعکس خیالات رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ بڑی آسانی سے کہیں گے ''افسوس کہ فرعون کو بوسے کی نہ سوجھی،''

لیکن ایک توقع یہ بھی کی جا رہی ہے کہ اس یوم بوسہ کو بالعموم نوجوانوں میں پسند کیا جائے گا۔ خصوصا ایسے منچلے نوجوانوں میں جنہوں نے منتخب صدر مرسی کے خلاف ریلیوں میں بھی جشن اور شادمانیوں کا از خود سر عام اہتمام کر لیا تھا، اگرچہ اس شادمانی کی زد میں کچھ غیر ملکی صحافی خواتین بھی آ گئی تھیں۔

اسی ماحول کی عکاسی اس یوم بوسہ کے حوالے سے فیس بک پر سامنے آنے والے تبصروں میں جھلکتی ہے۔ ان تبصروں میں دونوں طرف کی رائے کا کھلا آظہار کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود کہ یوم بوسہ منانے والوں اور مصریوں کے غم غلط کرنے کے لیے فیس بک پر تیس اگست سے پہلے مہم چلانے والوں نے بوسے کے کسی خاص طریقے یا انداز کی سفارش نہیں کی ہے۔ گویا انہوں یہ معاملہ ہر ایک کی سہولت، ضرورت او ربعضوں کی عادت اور بعضوں کی ثقافت پرچھوڑ دیا ہے۔

ادھم ایس شدید نے فیس بک پر لکھا ہے'' اس دن کے منانے سے اقدار کا ایشو نہیں پیدا ہو گا۔ یہ دن دوستوں میں محبت، اہلخانہ کی محبت اور کسی محبوب کی محبت کا دن ہو گا۔ یہ دن منا کر ہم چاہتے ہیں کہ ہم ثابت کریں ہم اچھے لوگ ہیں نہ کہ جنگلی اور جنسی بلے ہیں ۔''

اس دن سے متعلق فیس بک پر آٹھ سو لوگوں نے پسندیدگی ظاہر کی ہے۔ عبیر اتفا کا کہنا '' مصر کو اس وقت واقعی ہنسنے اور قہقہے لگانے کی ضرورت ہے۔''

فیس بک پر اس دن کی مخالفت کرنے والے اس بارے میں فیس بک کی انتظامیہ کو رپورٹ بھی کر رہے ہیں۔ اس رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے صالح نے لکھا ہے کہ شکر ہے مصر میں ابھی ایسے لوگ ہیں۔''

دلچسپ بات ہے کہ اسلام اور عیسائیت بوس وکنار کے بارے میں ایک جیسی رائے رکھتے ہیں۔ دونوں مذہب شادی کے بندھن میں موجود جوڑوں کے بغیر ہر کسی کو اجازت نہیں دیتے، نہ ہی کھلے عام ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ اس لیے اس دن کی مخالفت کرنے والوں نے اپنے تبصروں میں لکھا ہے'' ہم ایک مذہبی معاشرے میں رہتے ہیں اس لیے اس طرح کی حرکتوں کی اجازت نہیں ہو سکتی۔''

یوم بوسہ کی حامی خواتین کو فیس بک پر مخالفین کے براہ راست تبصروں کا بھی سامنا ہے، جس سے ایک عجیب صورتحال درپیش ہو جاتی ہے کہ اس سے مصری عوام کے غم غلط ہوں گے یا تقسیم اور ردعمل بڑھ جائے گا۔