ایران کا امریکا کو شام کی ''سرخ لکیر''عبور کرنے پر انتباہ

امریکی فوج شام کے خلاف ممکنہ آپشنز میں سے ایک پر عمل درآمد کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی مسلح افواج کے نائب سربراہ نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے دعووں پر شام میں مداخلت کی تو اس کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے اتوار کو مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف مسعود جزائری کا بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''اگر امریکا نے سرخ لکیر عبور کی تو وائٹ ہاؤس کے لیے سخت مضمرات ہوں گے''۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال امریکی صدر براک اوباما نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو وہ سرخ لکیر کو عبور کرلے گی اور اس کے شام کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے۔

درایں اثناء امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ امریکی فوج شام کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے ملائشیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر اوباما نے محکمہ دفاع کو ممکنہ آپشنز کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا تھا اور ہم نے یہ تیاری مکمل کر لی ہے۔ اگر وہ ان آپشنز میں سے کسی ایک پر عمل درآمد کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

تاہم صدر اوباما کے معاونین کا کہنا ہے کہ شام کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور کوئی بھی امریکی فیصلہ شامی فوج کے خلاف دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز پر حزب اختلاف نے منگل اور بدھ کے درمیان اپوزیشن کے کنٹرول والے علاقے غوطہ پر تباہ کن کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عاید کیا ہے لیکن شامی حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ واقعے میں ملوث نہیں ہے بلکہ الٹا اس نے باغی جنگجوؤں پر خطرناک ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں