سعودی عرب میں سارس وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 40 ہوگئی

سارس وائرس اور کینسر میں مبتلا سعودی شہری کا دارالحکومت ریاض میں انتقال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں سارس وائرس سے متاثرہ ایک اور شخص دم توڑ گیا ہے جس کے بعد مملکت میں اس مہلک وائرس سے حالیہ مہینوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد چالیس ہوگئی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اکاون سالہ شخص کی دارالحکومت ریاض میں وفات ہوئی ہے۔ وہ کینسر اور دیگر متعدی امراض میں بھی مبتلا تھا۔ اس کے علاوہ جنوب مغربی صوبہ اسیر میں دو اور سعودیوں کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے تیل کی دولت سے مالا مال علاقے الاحسا میں اس نئے وائرس سے متاثرہ افراد کے کیس سب سے پہلے سامنے آئے تھے۔ یہ علاقہ بحرین اور قطر کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

این کوو یا ناول کورنا وائرس (این کوو) وائرسوں کے اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے جن کے نتیجے میں متاثرہ شخص کو شدید سردی لگتی ہے۔ اسی نسل کا سارس (سویئر ایکیوٹ ریسپریٹری سنڈروم ) وائرس سب سے پہلے 2003ء میں ایشیا بھر میں پھیلا تھا اور اس سے اب تک دنیا بھر میں قریباً آٹھ سو افراد مارے جاچکے ہیں۔

سعودی عرب میں پایا جانے والا یہ نیا وائرس بھی سارس کی طرح کا ہے لیکن پہلے یہ صرف چمگادڑ میں پایا جاتا تھا۔ گذشتہ سال مشرق وسطیٰ میں پہلی مرتبہ اس وائرس کے انسانوں میں پائے جانے کی تصدیق ہوئی تھی اور سعودی عرب کے علاوہ اردن، جرمنی اور برطانیہ میں بھی اس کے کیس سامنے آئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس این کوو وائرس کا بھی سارس وائرس کے لیے تیار کی جانے والی دوا سے علاج ممکن ہے۔ یاد رہے کہ سارس وائرس سے دنیا بھر میں آٹھ ہزار افراد متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے دس فی صد انتقال کر گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں