شمالی عراق میں 12 افراد ہلاک، 5 فوجیوں کو جلا دیا گیا

نامعلوم مسلح افراد کی فوجیوں کی ٹیکسی پر فائرنگ، ایک کار بچ نکلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شمالی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں پانچ فوجیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ نامعلوم مسلح افراد نے فوجیوں کو فائرنگ سے ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں جلا دی ہیں۔

عراق کے فوجی ذرائع کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے شمالی شہر موصل اور بغداد کے درمیان شاہراہ پر واقع قصبے قیارا میں دو ٹیکسوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک کار میں سوار پانچ فوجی افسر مارے گئے۔

ایک انٹیلی جنس افسر نے بتایا کہ ایک کار میں سوار فوجی افسر اس کو بھگا لے جانے میں کامیاب رہے جبکہ دوسری حملہ آوروں کی فائرنگ کی زد میں آ گئی۔ انھوں نے فوجی افسروں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو آگ لگا دی۔ موصل کے ایک اسپتال کے مردہ خانے کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فوجیوں کی لاشیں جلی ہوئی تھیں۔

ادھر دارالحکومت بغداد سے اسی کلومیٹر شمال میں واقع قصبے بلد میں ایک کار بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔ موصل میں دو افراد کو ان کے گھروں میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔

بغداد سے شمال مشرق میں واقع شہر بعقوبہ میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں دو افراد مارے گئے ہیں۔ ان کا تعلق دربدر ہونے والے اہل تشیع کے ایک خاندان سے تھا اور وہ حال ہی میں اپنے گھروں کو لوٹے تھے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے عراق کے شمالی شہروں میں ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

تاہم وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں اہل تشیع کی حکومت کے خلاف برسر پیکار سنی جنگجوؤں کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران زور پکڑا ہے اور وہی اس طرح کے حملوں کے ذمے دار ہوسکتے ہیں۔ جولائی میں عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں