فنڈ کی کمیابی، مرشد عام کے 'اعترافات' نے اخوانی احتجاج ناکام بنایا

قیادت کی گرفتاری نے جماعت کی احتجاجی قوت منتشر کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مصر کی سب سے منظم دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کا ماضی جہد مسلسل اور قربانیوں سے عبارت رہا ہے لیکن تین جولائی کے فوجی اقدام اور منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جماعت کی قیادت کے'اوچھے پن' اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی نے جماعت کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے جمعہ 23 اگست کو اخوان المسلمون کی جانب سے اعلان کردہ ملین مارچ کی ناکامی کے عوامل پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔ مصری سیاسی تجزیہ نگاروں نے اخوانی دھرنوں کی ناکامی کے اسباب میں جماعت کی موجودہ قیادت ہی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ توقع تھی کہ اخوان المسلمون کی کال پر حسب سابق لاکھوں نہیں تو ہزاروں افراد ضرور سڑکوں پر نکل کر فوجی حکومت کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہار کریں گے لیکن جن بعض شہروں میں مٹھی بھر افراد سڑکوں پر نکلے بھی تو وہ انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے۔ یہ مظاہرے جماعت کی منظم صلاحیت پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اخوان المسلمون کے مظاہروں کی ناکامی کے اسباب پر علماء اور ملکی سیاست پر گہری نگاہ رکھنے والے ماہرین سے بھی بات کی۔ جامعہ الازھر میں صوفی اتحاد العلماء کے سیکرٹری جنرل اور ممتاز عالم دین الشیخ اشرف سعد نے اخوانی دھرنوں کی ناکامی کے تین اسباب بیان کیے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جماعت نے جتنے بھی ملین مارچ اور بڑے احتجاجی دھرنے دیے ہیں، ان کے پیچھے بھاری رقوم کا سہارا رہا ہے۔ لوگوں سے اس سلسلے میں پیسے بٹورے جاتے اور مظاہروں پر بے دریغ خرچ کیے جاتے۔ جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں رہ نماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور روپوشیوں کے نتیجے میں یہ مالی سوتے خشک ہو گئے ہیں یا نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ اب جماعت کو 'خیرات' دینے والے بہت کم بچے ہیں۔ فنڈنگ کی قلت دھرنوں کی ناکامی کا پہلا بڑا سبب ہے۔

الشیخ اشرف سعد نے اخوانی مظاہروں کی ناکامی کا دوسرا بڑا سبب یہ بتایا کہ جب تک فوج نے اخوانی مظاہروں کو طاقت کے ذریعے منتشر نہیں کیا تھا تب تک اخوان کے کارکن بھی واقعی عدم تشدد کے اپنے دعوے پر قائم رہے ہیں، لیکن جیسے ہی فوج نے قیام امن کے لیے ذرا سختی کا مظاہرہ کیا ہے تو اخوانیوں کی عدم تشدد کے دعوے کی قلعی کھل گئی۔ اخوان المسلمون کے خلاف آخری کریک ڈاؤن دراصل جماعت کی جانب سے اسلحے کے بے دریغ استعمال کا نتیجہ ہے۔ لوگوں کو عدم تشدد کی آڑ میں دھوکے سے سڑکوں پر لانے والے خود نہ صرف اسلحے کا کھلے عام استعمال کرنے لگے بلکہ انہوں نے دانستہ طور پر شہری اور سرکاری املاک پر حملے شروع کر دیے۔ جماعت کے تشدد آمیز رویے کے نتیجے میں جو لوگ ان سے ہمدردی رکھتے بھی تھے انہیں بدظن کیا۔ اس کا نتیجہ ہمیں تئیس اگست کے مظاہروں میں صاف نظر آ گیا کہ اب اخوان المسلمون عوام کو مزید دھوکے میں نہیں رکھ سکتی۔

علامہ اشرف السعد نے اخوان المسلمون کی زیر حراست قیادت بالخصوص مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع اور بھیس بدل کر فرار کی ناکام کوشش کرنے والے ڈاکٹر صفوت حجازی کے اعترافی بیانات کو جماعت کی احتجاجی طاقت میں کمزوری کا تیسرا سبب قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ مرشد عام اور صفوت حجازی دوران تفتیش اپنے حواس کھو چکے ہیں۔ قاہرہ میں رابعہ العدویہ اور دیگر شہروں میں مظاہروں کے دوران جماعت کے اکابرین نے فوج کے خلاف جو زبان استعمال کی اور الزامات عائد کیے تھے اب وہ ان سے مکر گئے ہیں حالانکہ ڈاکٹر بدیع اور صفوت حجازی جماعت کے صف اول کے ان قائدین میں شامل ہیں جو کارکنوں کومخالفین پر حملوں پر اکساتے رہے ہیں۔

شیخ سعد کا کہنا تھا کہ مرشد عام کی ایک ویڈیو فوٹیج تو سب لوگوں نے دیکھی ہے جس میں وہ جماعت کے ایک دوسرے سرکردہ لیڈر محمد البلتاجی کو مخالفین کے مظاہروں پرطاقت کے استعمال کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ صفوت حجازی بھی اپنے بیانات سے مکر رہے ہیں حالانکہ تشدد پر اکسانے کے ان کی کئی تقاریر ریکارڈ پرموجود ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں جامعہ الازھر کے سرکردہ عالم دین کا کہنا تھا کہ مصرمیں جس جماعت نے بھی اسلحے، طاقت اور تشدد کے استعمال کی راہ اپنائی عوام نے اسے مسترد کر دیا۔ آج اسلامی جہاد، جماعۃ الاسلامیہ اور اس طرح کی کئی دوسری جماعتوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ انہوں نے بندوق کی نوک پر اپنے مقاصد کے حصول کی ٹھانی، دہشت گردی کا ارتکاب کیا اور نتیجۃً آج وہ قومی دھارے سے خارج ہو چکی ہیں۔

اخوان المسلمون کے مظاہروں کی ناکامی کے اسباب پر بات کرتے ہوئے مصری دانشور ممدوح الشیخ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ تئیس اگست کو جماعت "شو آف پاور" میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ اس ناکامی کی وجہ مرشد عام اور جماعت قیادت کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ فوج کی جانب سے عائد کردہ ایمرجنسی بھی ایک بڑا سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ گراؤنڈ میں موجود جماعت کی قیادت میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ جماعت کے قائم مقام مرشد عام محمود عزت کو اخوانی کارکن اور قائدین پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔

شیخ ممدوح کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون اب نئے تعلیمی سال کے انتظار میں ہے تاکہ طلباء ایک مرتبہ پھر جامعات میں آئیں اور جماعت انہیں استعمال کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کو منظم کر سکے کیونکہ تعلیمی اداروں میں اخوان المسلمون کی حامی طلباء تنظیموں کی ایک متحرک قوت موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں