مرشد عام سمیت 32 رہنماوں کیخلاف مقدمے کی سماعت ملتوی

اخوان رہنماوں کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، حسنی مبارک پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی سب سے بڑی سیاسی اور اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون کے زیرحراست تین اعلی ترین قائدین سمیت 32 رہنماوں کے خلاف بنائے گئے مقدمات کی عدالت میں ابتدائی سماعت آج 29 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے، تاہم اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع اور ان کے دو نائبین خیرت الشاطر اور رشادالبیومی و دیگر رہنماوں کو حکومت نے اتوار کے روز ہونے والی پہلی سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش نہیں کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اخوان المسلمون کے مرشد عام جنہیں مصری سکیورٹی فورسز نے ان کے بیٹے عمار بدیع سمیت سینکڑوں مظاہرین کے جاں بحق ہونے کے دو دن بعد مسجد رابع العدوایہ کے قریب ایک اپارٹمنٹ سے علی الصباح گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے معزول صدر مرسی کے حامیوں کو مشتعل کیا، جس کے نتیجے میں متعدد لوگ مارے گئے۔ آج انہیں پہلی بارعدالت میں پیش کیا جانا تھا لیکن عبوری حکومت اور سکیورٹی فورسز کے فیصلے کے مطابق پیش نہیں کیا گیا۔

اخوان المسلمون کے دیگر سینئیر رہنماوں خیرت الشاطر اور رشاد البیومی جنہیں مصری سکیورٹی فروسز نے صدر مرسی کی برطرفی کے فوری بعد حراست میں لے لیا تھا بھی مظاہرین کے قتل کے لیے مشتعل کرنے کے الزام کی زد میں ہیں۔ انہیں 30 جون کو اخوان کے ہیڈ کوارٹرز پر مخالف جماعت کے کارکنوں کے حملے کے دوران مارے گئے مظاہرین کے حوالے سے گرفتار کیا گیا ہے، تاہم ان رہنماوں کو بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ ان رہنماوں کی عدم موجودگی میں ہونے والی مختصرعدالتی کارروائی کے بعد اگلی سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب سینکڑوں مظاہرین کے قتل کے الزام میں ماخوذ سابق مصری آمر حسنی مبارک کو آج عبوری حکومت نے عدالت میں پیش کیا ۔ اس موقع پر سابق آمر کے دور کے وزیر داخلہ سمیت چھ ملزمان عدالت میں لائے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں