یو این معائنہ کاروں کو کیمیائی ہتھیاروں کی جگہ کے معائنے کی اجازت

شامی حکومت اور اقوام متحدہ کی اعلیٰ نمائندہ کے درمیان سمجھوتا طے پاگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو دارالحکومت دمشق کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی جگہوں تک جانے کی اجازت دے دی ہے۔

شامی وزارت خارجہ نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''آج دمشق میں شامی حکومت اور اقوام متحدہ کے درمیان عالمی ادارے کی تخفیف اسلحہ کی اعلیٰ نمائندہ اینجیلا کین کے دورے کے موقع پر ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے جس کے تحت پروفیسر آکے سیل سٹروم کی قیادت میں ٹیم کو صوبہ دمشق میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات کی اجازت دے دی گئی ہے اوریہ سمجھوتا فوری طور پر موثر بہ عمل ہوگیا ہے''۔

دمشق کے علاقے غوطہ میں گذشتہ منگل اور بدھ کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز پر حزب اختلاف نے باغی جنگجوؤں کے کنٹرول والے علاقے غوطہ پر تباہ کن کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے لیکن شامی حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ واقعے میں ملوث نہیں ہے بلکہ الٹا اس نے باغی جنگجوؤں پر خطرناک ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

درایں اثناء شام میں سرکاری فوج کے خلاف برسر پیکار القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک آڈیو ٹیپ میں غوطہ میں شامی فوج کے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے جواب میں صدر بشارالاسد کے آبائی دیہاتی علاقے پر حملے کی دھمکی دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں