.

سلطان قابوس سہ روزہ دورے پر تہران پہنچ گئے

ایران امریکہ تعلقات کی بہتری کے لیے بھی دورہ اہم ہو سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اومان کے سلطان قابوس تین روزہ دورے پر ایران پہنچے ہیں۔ جہاں وہ دوطرفہ تعاون ، توانائی کے مسائل اور خطے کی صورتحال کے علاوہ امکانی طور پر ایران امریکا تعلقات اور تنازعات میں کمی کے لیے تدابیر پر بھی ایرانی قیادت سے تبادلہ خیال کریں گے۔ اومان واحد عرب ملک ہے جو امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ بیک وقت اچھے تعلقات رکھتا ہے۔

نئے اور مقابلتا اعتدال پسندانہ رجحانات کے حامل ایران کے نئے صدر حسن روحانی کے 3 اگست سے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی بھی غیر ملکی سربراہ کا ایران کا یہ پہلا دورہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران طویل عرصہ تک عالمی سطح پر تنہا رہنے کے بعد اب اس سے نکلنا چاہتا ہے، تاہم ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سلطان قابوس کی آمد پر ابتدائی تبصرے میں یہ کہا ہے کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ وہ امریکا کا پیغام ساتھ لا رہے ہیں۔ ایران ایسی کسی چیز کے انتظار میں بھی نہیں ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اسکی دوٹوک تردید بھی نہیں کی۔

دوسری جانب ایران کا جوہری پروگرام جس پر امریکا اور مغرب کو شکوک و شبہات ہیں اس کے حوالے سے بھی تجزیہ کاروں کی امید ہے کہ اس معاملے کے حل کے لیے بھی حسن روحانی بات چیت کرنے اور پابندیوں کے خاتمے کے حق میں ہیں، کیونکہ ایران پر عائد پابندیوں سے ایرانی تیل کی بر آمدات رک گئی ہیں اور ایرانی معیشت خراب ہوئی ہے۔

حسن روحانی کے صدر بننے کے بعد پہلے سربراہ کے طور پر ایران آنے والے سلطان قابوس اس سے پہلے ایک ایرانی سائنسدان کو امریکی حراست سے جبکہ تین امریکی کوہ پیماوں کو ایرانی حراست سے چھڑانے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے مبصرین ان کے دورے کو ایران امریکا تعلقات کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

اپنے تین روزہ دورے کے دوران سلطان قابوس صدر کے علاوہ ایرانی رہبر خامنہ ای اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر سے بھی ملاقات کریں گے۔ جبکہ اومانی سلطان کے وفد میں شامل حکام توانائی کے ایشوز پر بات چیت کریں گے۔