.

سنائپر حملے کے بعد یواین کیمیائی ہتھیاروں کے انسپکٹروں کا مشن معطل

امریکا کا شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے بعد انھوں نے دمشق کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعووں کی تحقیقات کا کام معطل کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کی پہلی گاڑی پر گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی ہے لیکن اس سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔

اقوام متحدہ کے اسلحہ انسپکٹر آج دمشق کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے کی جگہ کا معائنہ کرنے والے تھے۔ شامی حکومت نے اتوار کو اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو دارالحکومت کے نواح میں واقع غوطہ کے علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی جگہوں تک جانے کی اجازت دی تھی۔ اس پر امریکا کا کہنا تھا کہ شام نے بہت تاخیر سے یہ فیصلہ کیا ہے۔

درایں اثناء ایک سنَیئر امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ شامی رجیم ہی نے کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے اور امریکا اس کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔

امریکی وزیردفاع چک ہیگل کے ساتھ سفر کرنے والے اس سنئیر امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ''کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں مرنے والوں کی تعداد ،عینی شاہدین کے بیانات اور آزاد ذرائع سے حاصل کردہ معلومات ،امریکی اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہا ہے کہ شامی حکومت نے ہی اپنے عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ کیا ہے۔

دمشق کے علاقے غوطہ میں گذشتہ منگل اور بدھ کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں تیرہ سے چودہ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز پر حزب اختلاف نے باغی جنگجوؤں کے کنٹرول والے اس علاقے غوطہ میں تباہ کن کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے لیکن شامی حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ واقعے میں ملوث نہیں ہے بلکہ الٹا اس نے باغی جنگجوؤں پر خطرناک ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔