.

شام نے کیمیائی ہتھیاروں کے الزام کو احمقانہ قرار دیدیا

شام پر حملہ سنگین مضمرات کا حامل ہو گا: روسی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشارالاسد نے دمشق کے نواح غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کو پہلی مرتبہ سختی سے مسترد کرتے ہوئے ان الزامات کو احمقانہ قرار دیا ہے۔ بشارالاسد کے سب سے بڑے حامی روس نے ان اطلاعات کو تشویش انگیز کہا ہے کہ امریکی افواج شام پر حملے کے لیے تیار ہیں۔

شام اس سے پہلے غوطہ کے علاقے میں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو جانے اور معائنہ کرنے کی اجازت دے چکا ہے۔ اگرچہ امریکا نے اس اجاز ت کو تاخیر سے دی گئی اجازت قرار دیا ہے اور اپنے بحری بیڑے کے شام کے قریب پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔

ایسے ماحول میں شامی صدر کا غوطہ میں ہونے والی 1300 سے زائد ہلاتوں کے بعد سامنے آنے والے ردعمل کو احمقانہ کہا جانا اہم بات ہے۔ بشار الاسد کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے کیمیائی ہتھیاروں کی آڑ میں حملہ کیا تو امریکا کو شکست ہو گی۔ جیسا کہ امریکا کو ویتنام سے لے کر آج تک شکست ہو رہی ہے۔ بشارالاسد کے مطابق مغربی دنیا کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کوعمومی دانش کی توہین کے مترادف قرار دیا ہے۔

دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ شام پر امکانی حملے ٘کے انتہائی سنگین مضمرات ہوں گے۔ انہوں نے کسی بھی فوجی مداخلت کو پورے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے لیے خطرناک قرار دیا۔

واضح رہے امریکا شام پر حملے میں یکسو نظر آتا ہے اور اپنے بحری بیڑے کی شام کی جانب روانہ کرنے کے بعد کسی بھی پر امن پیش رفت کو اہمیت دینے پر تیار نہیں ہے۔