.

قومی معیشت پر' بشارالاسد اینڈ کمپنی' کی بالادستی کا راز فاش

بشار کے نورتن دو تہائی ملکی وسائل پر قابض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برپا عوامی بغاوت کی تحریک کے دوران قومی معیشت کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے مگرایک تازہ انکشاف یہ ہوا ہے کہ شام کی دو تہائی قومی معیشت پر بشارالاسد اور ان کے نورتنوں کا قبضہ ہے۔ قومی وسائل، آمدن کے تمام ذرائع یا توبشارالاسد کے خاندان کے پاس ہیں یا ان کے نہایت قریب سمجھے جانے والے وفاداروں کے قبضے میں ہیں۔

امریکا میں قائم "واشنگٹن انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز" نے شامی معیشت پر بشارالاسد اور ان کے مقربین کے نیٹ ورک کی بالادستی کی خفیہ دستاویزات منظرعام پر لائی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق قومی وسائل کے دو تہائی حصے پر بشارالاسد کے خاندان اور ان کے چند ایک مقربین قابض ہیں۔

امریکن انسٹیٹیوٹ کی جانب سے بشار الاسد کے خاندان اور ان کے مقربین خاص کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی ہے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملکی معیشت کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بشارالاسد بلا شرکت غیرے ملک کے تنہا مالک اور حاکم مطلق سمجھے جاتے ہیں۔ سنہ 1963ء کے ایمرجنسی قانون کی رو سے وہ صرف حاکم وقت ہی نہیں بلکہ تمام قومی اداروں کے بھی سربراہ ہیں۔ قدرتی تیل، قدرتی گیس، قومی آمدنی کی سرکاری کمپنیوں اور مرکزی بنک کے بھی وہ سربراہ ہی نہیں بلکہ مالک کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پرائیویٹ سیکٹر کے دو تہائی وسائل پران کے بھائی ماہرالاسد اور خالہ زاد رامی مخلوف کا قبضہ ہے۔ ان دونوں شخصیات نے اپنے ذیلی نیٹ ورک میں تین اور شخصیات کو متعین کر رکھا ہے جو پرائیویٹ سیکٹر کی آمدن و خرچ کا حساب لگانے کے بعد بقیہ رقم ان کے 'مالکان ' تک پہنچا دیتے ہیں۔ یہ تینوں تاجر محمد حمشو، رائیف القوتلی اور خالد قدور بشارالاسد کے خاندان کے مقرب، نہایت وفاداراور قابل اعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

پرائیویٹ سیکٹر کے بڑے اداروں میں "سیریا ٹاچ" کمپنی، مڈل ایسٹ کمیونیکیشن، انٹرنیٹ انجن"ران نیٹ" اور"جوپیٹر" نامی کمپنیاں بشارالاسد کے بھائی ماہرالاسد کے قبضے میں ہیں جبکہ صرافہ، مواصلات، ایڈورٹائزنگ، ریڈیو، دنیا اور سماء ٹیلی ویژن چینل محمد حمشو کے سپرد ہیں۔

بشارالاسد اور ان کے بھائی ماہر الاسد کے بعد ان کے خالہ زاد رامی مخلوف ملک کے قومی اداروں کے تیسرے بڑے شہنشاہ ہیں۔ شام ہولڈنگ، سیریا آئیل، تعمیرات و مشرقی سرمایہ کاری کمپنی، شام انشورینس کمپنی سمیت سیکڑوں ایسی چھوٹی بڑی کمپنیاں براہ راست رامی مخلوف کے کنٹرول میں ہیں اور ان سے حاصل ہونے والا سرمایہ براہ راست بشارالاسد اور ان کے خاندان تک پہنچتا ہے۔