.

یو این انسپکٹَروں کی کیمیائی ہتھیاروں سے متاثرہ شامیوں سے بات چیت

شامی حکومت اور باغی جنگجوؤں سے معائنہ کاروں پر سنائپر حملے پر سخت احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے سوموار کو شام کے دارالحکومت دمشق میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ کی زد میں آنے کے باوجود نواحی علاقے غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متاثرہ شامیوں سے بات چیت کی ہے اور بعض شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول سے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ عالمی ادارے نے شامی حکومت اور باغی جنگجوؤں کو سنائپر حملے پر سخت شکایت کی ہے۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق اقوام متحدہ کے معائنہ کار شامی دارالحکومت کے نواح میں قائم کیے گئے ایک عارضی اسپتال میں گئے ہیں۔ انھوں نے نیلے رنگ کے ہیلمٹ پہن رکھے ہیں۔ وہ زخمیوں سے گفتگو کررہے ہیں لیکن آواز مدھم ہونے کی وجہ سے یہ گفتگو سنائی نہیں دے رہی ہے۔

شامی حکومت نے اتوار کو اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو دارالحکومت کے نواح میں واقع غوطہ کے علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی جگہوں تک جانے کی اجازت دی تھی۔ اس پر امریکا کا کہنا تھا کہ شام نے بہت تاخیر سے یہ فیصلہ کیا ہے۔

درایں اثناء شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد امریکا اور روس کی مجوزہ جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت سے معذوری ظاہر کردی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اب اس کانفرنس کا کوئی جواز نہیں رہا ہے کیونکہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت ایک طرف تو نہتے شامیوں پر خطرناک کیمیائی ہتھیار آزما رہی ہے اور دوسری جانب وقت گزاری کے لیے مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔

اتحاد کے سیکرٹری جنرل بدر جاموس نے ایک بیان میں کہا کہ ''شام میں جو کچھ رونما ہوا ہے، اس کے بعد تو ہم نے جنیوا اجلاس کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کردیا ہے۔ ہمیں اس آمر بشارالاسد کو سزا دینی چاہیے جس کو ہم کیمسٹ کہتے ہیں۔ اس کے بعد ہی ہم جنیوا اجلاس کے بارے میں کوئی بات کرسکتے ہیں''۔