.

اردن: بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ، اخوان المسلمون کا بائیکاٹ

مملکت بھر میں کسی گڑبڑ سے بچنے کے لیے قریباً 50 ہزار پولیس اہلکار تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں بلدیاتی انتخابات کے لیے آج منگل کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں جبکہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت اخوان المسلمون نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔

اردن کے وزیر بلدیات ولید مصری نے ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''انتخابی عمل بخیر وخوبی انجام پا رہا ہے اور کوئی مسائل یا رکاوٹیں رپورٹ نہیں ہوئی ہیں۔ ووٹ ڈالنے کی شرح بھی بہتر جارہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ اردنی ووٹر جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے بلدیاتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''چارہزار سے زیادہ مقامی اور بین الاقوامی مبصرین ان انتخابات کی نگرانی کررہے ہیں''۔ اخوان المسلمون کے بائیکاٹ کے بعد معدودے چند لبرل امیدوار میدان میں ہیں اور ان کا شاہ عبداللہ دوم کے حامی قبائیلیوں کے ساتھ مقابلہ ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاہ نواز قبائلیوں کی جیت کے زیادہ امکانات ہیں۔

اردنی ووٹر ملک کی زبوں حال معیشت کی وجہ سے حکومت سے نالاّں ہیں اور اس پر اب ہزاروں شامی مہاجرین کا بھی بوجھ پڑا ہے جس کی وجہ سے پانی کی بہم رسانی ،مکانات اور تعلیم ایسے شعبوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں.

اردن کے کل چورانوے بلدیاتی اداروں کے ایک سو میئرز اور نوسو ستر کونسلروں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں اور ان نشستوں کے لیے قریباً تین ہزار امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ اردن کے قریباً سینتیس لاکھ ووٹروں نے بلدیاتی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے اندراج کرایا تھا۔

انتخابی قانون کے تحت میونسپل کونسلوں کی دوسوستانوے نشستیں خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ تاہم مسلح افواج، سکیورٹی سروسز اور بیرون ملک رہنے والے قریباً ساڑھے بارہ لاکھ اردنی اور انتخابی عملے کے چالیس ہزار سے زیادہ اہلکار اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرسکیں گے۔

اردن بھر میں بلدیاتی انتخابات کے موقع پر کسی گڑ بڑ سے بچنے کے لیے پچاس ہزار کے لگ بھگ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ووٹ ڈالنے کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوا تھا اور یہ شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت معاشی مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں غم وغصہ پایا جارہا ہے اور بعد از انتخابات تشدد کے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ اردنی حکومت نے عوام کو کوئی ریلیف دینے کے بجائے اپنے دو ارب ڈالرز کے بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے بعض کفایت شعارانہ اقدامات کیے ہیں۔ اس نے گذشتہ ماہ سیل فونز اور موبائل ٹیلی فونز پر ٹیکسوں کی شرح دگنا کردی تھی اور وہ بجلی کی قیمتوں میں بھی پندرہ فی صد تک اضافے کا ارادہ رکھتی ہے۔