.

اسرائیل: زہریلی گیس سے بچاؤ کے "حفاظتی ماسک" کی فروخت میں اضافہ

خطے کی صورت حال کے تناظر میں اسرائیلی وفد کا دورہ امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں اسرائیلی حکومت اور شہری دونوں سخت پریشان دکھائے دے رہے ہیں۔ شام میں جاری خانہ جنگی، مصر کی داخلی شورش اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے بڑھتے خطرات کو اسرائیل اپنے لیے غیر معمولی خطرہ سمجھنے لگا ہے۔

تل ابیب اور یہودی آبادکار اپنے تیئں حفاظتی انتظامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل وفد امریکا پہنچا ہے جہاں وہ ایران، شام اور مصر کی صورت حال اور ان ملکوں کی جانب سے اسرائیل کو درپیش چینلجز پر بات چیت کر رہا ہے۔ دوسری جانب اندرون مقبوضہ عرب علاقوں کی یہودی آبادی زہریلی گیس سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر ماسک کی خریداری کر رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق "نیٹو" کی جانب سے شام کے خلاف جنگ کے لیے کروز میزائل نصب کرنے کی خبر نے اسرائیلی حکومتی حلقوں میں ہل چل مچا دی ہے۔ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ شام کے خلاف مغرب کی فوجی کارروائی کے براہ راست منفی اثرات صہیونی ریاست پر پڑیں گے۔ شام جوابی کارروائی کے طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔

اسی معاملے میں صلاح مشورے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ یاکوف امیڈور کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد نے اپنی امریکی ہم منصب مسز سوزان رائس سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے۔

امریکا کی قومی سلامتی کمیٹی کی ترجمان کائٹلن ہائیڈن کا کہنا ہے کہ فریقین میں ہونے والی بات چیت میں مصر، شام اور ایران کے جوہری پروگرام سے اسرائیل کو لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شام میں باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی خبروں کے بعد بشار الاسد کے خلاف ممکنہ امریکی فوج کشی کا معاملہ بھی ملاقات میں زیر بحث آیا۔ امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس نے اپنے اسرائیلی مہمانوں کو یقین دلایا کہ واشنگٹن، شام کے خلاف کارروائی کرنے یا نہ کرنے دونوں صورت میں اسرائیل کی سلامتی کا خیال رکھے گا۔

درایں اثناء اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی جانب سے مغربی سرحد سے ممکنہ کیمیائی حملے کو مبالغہ آرائی کے انداز میں پیش کرنے کے بعد ہزاروں یہودی آباد کاروں نے "گیس ماسک" دھڑا دھر خریدنا شروع کر دیے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے گذشتہ ہفتے دمشق میں کیمیائی اسلحہ حملوں کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شام کسی بھی وقت اسرائیل پر انہی مہلک ہتھیاروں سے یلغار کر سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حفاظتی ماسک فروخت کرنے والی دکانوں پر خریداروں کا ہجوم ہے اور لوگ قطاروں میں لگ کر ان کی خریداری میں مصروف ہیں۔

فوج کی جانب سے گیس ماسک کی فروخت کی مجاز اتھارٹی"اسرائیل پوسٹل سروسز" کی ترجمان مایا ابیچائی نے میڈیا کو بتایا کہ ملک میں حفاظتی ماسک کی خریداری میں پچھلے دنوں کی نسبت گذشتہ دو ایام میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ مسز مایا کا کہنا تھا کہ حفاظتی ماسک کی بڑھتی طلب کے ساتھ شہریوں نے ماسک فروخت کرنے کے مراکز اورعملے میں اضافے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔