.

امریکی فوج شام کے خلاف کارروائی کے لیے صدارتی حکم کی منتظر

کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت جلد سامنے لائیں گے: وزیر دفاع چک ہیگل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیردفاع چَک ہیگل کا کہنا ہے کہ واشنگٹن بہت جلد شامی حکومت کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے انٹیلی جنس ثبوت سامنے لائے گا۔

امریکی فوج صدر براک اوباما کی جانب سے حکم ملنے کی منتظر ہے اور وہ شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ردعمل میں فوری کارروائی کے لیے بالکل تیار ہے۔

یہ دھمکی امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے منگل کو بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں دی ہے۔انھوں نے برونائی دارالسلام کے دورے کے موقع پر کہا کہ ''ہم نے اثاثے منتقل کردیے ہیں تاکہ صدر جس بھی آپشن کا حکم دیتے ہیں،اس پر عمل درآمد کیا جا سکے''۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا امریکی فوج بالکل اسی طرح ردعمل کے لیے تیار ہے جس طرح وہ کہہ رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ہاں ہم اس کے لیے بالکل تیار ہیں۔انھوں نے کہا کہ واشنگٹن بہت جلد شامی رجیم کی جانب سے اپنے ہی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ثبوت شئیر کرے گا۔

امریکی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ''شام نے اپنے ہی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں اور ہماری انٹیلی جنس معلومات سے یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ یہ باغی نہیں تھے جنھوں نے خطرناک ہتھیار استعمال کیے ہیں بلکہ شامی حکومت نے ایسا کیا ہے''۔

درایں اثناء اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس کے معائنہ کاروں نے دمشق کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی جگہ کا طے شدہ دورہ تحفظ کے خدشات کے پیش نظر ملتوی کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ روز اقوام متحدہ کے ماہرین پر سنائپر حملے کے بعد صورت حال کا جامع جائزہ لیا گیا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دورے کو ایک دن کے لیے ملتوی کردیا جائے تاکہ ٹیم کے تحفظ کے بہتر انتظامات کیے جاسکیں۔