.

سعودی عرب: ہر طرح استحصال کے خاتمے کے لیے سخت قوانین کا نفاذ

نازیبا سلوک کے مرتکبین کوایک سال تک جیل کی سزا سنائی جاسکے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہریوں اور تارکین وطن نے وزارتی کونسل کی جانب سے کام کی جگہوں اور دیگر مقامات پر نازیبا سلوک اور استحصال کی مختلف شکلوں کے خلاف قانون اور اس کے مرتکب افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کے نائب وزیراعظم دوم شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کی زیرصدارت سوموار کو کابینہ کے اجلاس میں نئے قانون کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت استحصال کی مختلف شکلوں سے تحفظ اور متاثرین کے علاج کی ضمانت دی گئی ہے۔

سعودی عرب کی سماجی امور کی وزارت کے ذرائع نے سعودی گزٹ کو بتایا کہ قانون کے تحت استحصال کی تمام شکلوں کے علاوہ جسمانی ،نفسیاتی اور جنسی زیادتی یا اس کی دھمکی کو ایک جرم سمجھا جائے گا۔

مکہ مکرمہ کے علاقے میں قومی سوسائٹی برائے انسانی حقوق کے نگران حسین الشریف اور وزارت کے مشیر ڈاکٹر علی الحناکی سمیت متعدد معروف شخصیات نے اس نئے قانون کا خیر مقدم کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے گھریلو تشدد کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

قانون کے تحت عدالتوں کو استحصال کرنے والوں کے خلاف سخت فوجداری کارروائی کے اختیارات حاصل ہوجائیں گے اور اگر والدین اپنے بچوں کے ساتھ غلط طرز عمل اختیار کرتے ہیں تو انھیں اس کے اعادے کی صورت میں گارڈین شپ سے بھی محروم کیا جاسکتا ہے۔

وزارت کے ذرائع کے مطابق استحصال یا نازیبا طرزعمل کا مظاہرہ کرنے والوں کو کم سے کم ایک ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی یا پانچ ہزار سے پچاس ہزار تک جرمانہ عاید کیا جاسکے گا یا یہ دونوں سزائیں بھی سنائی جاسکتی ہیں۔ اگر مجرم نے دوبارہ جرم کیا تو اس کو دگنا سزا دی جائے گی۔ قانون کے تحت اگر کسی شخص کو ناروا سلوک کے کسی کیس کا پتا چلتا ہے تو اسے فوری طور پر اس کو متعلقہ حکام کو رپورٹ کرنا ہوگا۔

دارالحکومت ریاض میں کلینک چلانے والی ڈاکٹر سمیحہ نے اس نئے قانون کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن اس کا اطلاق ہونا چاہیے، اس کو صرف ملازمین بھرتی نہیں کرنے چاہئیں۔ بعض اوقات مریض نرسوں کو ہراساں کرتے ہیں لیکن ان کے خلاف ردعمل کا اظہار بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسے قوانین بھی ہونے چاہئیں جن کے تحت ملازمین کو موکلوں / مریضوں سے تحفظ ملے۔

سعودی وزیر ثقافت اور اطلاعات ڈاکٹر عبدالعزیز خوجہ نے کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ''قانون کے تحت ناروا سلوک کا نشانہ بننے والوں کو نفسیاتی اورسماجی بحالی اور صحت کی سہولت دی جائے گی۔ غلط روی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور انھیں سزا دی جائے گی۔

ڈاکٹرخوجہ نے سعودی پریس ایجنسی کو جاری کردہ بیان میں بتایا کہ قانون میں ایک خاص دفعہ کے تحت کام کی جگہوں پر استحصال کی ممانعت کردی گئی ہے۔ قانون کے تحت تمام سرکاری یا فوجی اہلکار کسی بھی کیس کا پتا چلنے کے بعد اپنے اعلیٰ حکام، وزارت سماجی بہبود یا پولیس کو ان کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کریں گے۔ ایسے کسی کیس کی اطلاع دینے والے کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی اور وزارت کے حکام کیسوں کے اطلاع کنندگان کو تحفظ فراہم کریں گے۔