.

شام مغربی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا

مغربی ممالک کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں: وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی وزیرخارجہ ولید المعلم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک مغربی ممالک کے فوجی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا۔

انھوں نے منگل کو دمشق میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''ہمارے سامنے دو ہی آپشن ہیں: ایک یہ کہ ہم ہتھیار ڈال دیں یا پھر دستیاب ذرائع کے ساتھ اپنا دفاع کریں۔ دوسرا انتخاب ہی بہترین ہے۔ ہم اپنا دفاع کریں گے''۔

ولید المعلم نے کہا کہ ''ان کا ملک اس طرح اپنا دفاع کرے گا کہ اس سے دنیا حیران رہ جائے گی لیکن شام کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادیوں کی کسی بھی فوجی کارروائی سے اسرائیل اور القاعدہ سے وابستہ جہادی تنظیم النصرۃ محاذ کے مفادات ہی کی خدمت ہوگی''۔

ان کے بہ قول شام کوئی آسان کیس نہیں ہے۔ ہمارے دفاع سے دوسرے حیران رہ جائیں گے۔ انھوں نے مغربی ممالک کو چیلنج کیا کہ اگر ان کے پاس شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ پیش کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمارے ارد گرد جنگ کے ڈھول پیٹے جارہے ہیں۔ اگر وہ شام کے خلاف کوئی حملہ کرنا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں اس کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کا جواز درست نہیں ہے۔ میں انھیں چیلنج کرتا ہوں کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ سامنے لائیں''۔

شامی وزیرخارجہ نے یہ نیوز کانفرنس امریکا اور اس کے اتحادیوں کی شام کے خلاف فوجی حملے کی دھمکیوں کے ردعمل میں کی ہے۔ یہ ممالک شامی حکومت کے خلاف اپنے ہی عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے 21 اگست کو دمشق کے نواح میں واقع غوطہ کے علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ وہ آج بھی مزید شواہد کے حصول کے لیے اس علاقے کی جانب جانے والے تھے لیکن شامی حکومت نے انھیں روک دیا ہے اور کہا ہے کہ باغی جنگجو انھیں سکیورٹی فراہم کرنے کی ضمانت دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لیے اب وہ بدھ کو جائیں گے۔

ولید المعلم نے کہا کہ ''آج ہم حیران رہ گئے ہیں کہ اسلحہ انسپکٹر وہاں جانے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ باغیوں نے مشن کی سکیورٹی کی کوئی ضمانت نہیں دی ہے۔ اس لیے اب مشن کو کل (بدھ ) تک موخر کردیا گیا ہے''۔