.

شام کے بارے میں فیصلہ: ''بس کل تک انتظار کر لیں''

اہم تقریر، پھر شامی آزاد فوج اتحادی افواج کے شانہ بشانہ ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

''شام کے بارے میں انتہائی اہم فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔ اس سلسلے میں اہم تقریر عالمی برادری کو منگل کے روز سننے کو مل سکتی ہے۔ اگلے چار دنوں میں عرب دنیا میں ایسے واقعات ہوں گے جو دنیا میں برسوں میں نہیں دیکھیں ہوں گے۔ '' اس امر کا اظہار شامی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک اعلی سفارتکار نے''العربیہ'' سے خصوصی بات چیت کے دوران کیا۔

شامی اپوزیشن کے حامی باخبر اور متحرک سفارتکار منذر ماخوس ان دنوں حزب اختلاف کی نمائندگی کے لیے پیرس میں تعینات ہیں، کا کہنا ہے'' شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد صورتحال تیزی سے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے اور ایک انتہائی اہم تقریر کی تیاری ہو رہی ہے۔ '' تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا یہ تقریر امریکی صدر اوباما کی ہو گی یا کسی عرب لیڈر کی، البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ ''یہ اہم تقریر شام کے کسی رہنما کی طرف سے نہیں بلکہ اہل شام کے دوستوں میں سے ایک کی ہو گی۔''

منذر ماخوس کا مزید کہنا ہے '' اہل شام کے دوست ممالک انسانی، اخلاقی اور سیاسی بنیادوں پر ان کی مدد کر رہے ہیں ، جب ان ممالک کی افواج کی کارروائی شروع ہو گی تو شام کی آزاد فوج ان کے شانہ بشانہ ہو گی اور فوجی کارروائی ہر حوالے مکمل اور جامع ہو گی۔ بس کل تک انتظار کر لیں۔''

ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پیر کے روز کہا ہے کہ ''اس میں شک نہیں کہ شام میں بشارالاسد نے عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ جبکہ بشارالاسد کی یہ کارروائی بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔'' واضح رہے امریکی صدر اوباما ایک سال پہلے ہی کیمیائی ہتھیاروں کے کہیں بھی استعمال کو سرخ لکیر عبور کرنا قرار دے چکے ہیں۔

وائٹ ہاوس میں عرب دنیا سے متعلق امور پر نظر رکھنے والے اینڈریو جے ٹیبلر کا اس صورتحال کے بارے میں کہنا ہے ''شام کے حوالے سے وائٹ ہاوس کی تازہ سر گرمیوں سے محسوس ہوتا ہے کہ بشارالاسد آخری موقع بھی ضائع کر چکے ہیں۔''